ممکنہ احتجاج، راولپنڈی میں سیکیورٹی سخت، فیک نیوز کی مانیٹرنگ کے لیے پولیس سیل 24 گھنٹے فعال ہے، سی پی او راولپنڈی

ممکنہ احتجاج، راولپنڈی میں سیکیورٹی سخت، فیک نیوز کی مانیٹرنگ کے لیے پولیس سیل 24 گھنٹے فعال ہے، سی پی او راولپنڈی

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ممکنہ احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی پولیس نے جامع سیکیورٹی پلان تیار کرلیا ہے۔ سی پی او راولپنڈی حسن سکھیرا نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کا امن و امان اور جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اسے شہر کی اصل ’’ریڈ لائن‘‘  قرار دیا گیا ہے۔

آزاد پوڈ کاسٹ میں  میزبان سلمان درانی سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی او راولپنڈی حسن سکھیرا نے کہا کہ راولپنڈی جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم شہر ہے جو خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد کو آپس میں ملاتا ہے، جبکہ روزانہ بڑی تعداد میں مسافر یہاں سے گزرتے ہیں۔

انہوں نے ماضی میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے 26 نومبر 2024 کے واقعے کا ذکر کیا، جس میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والا پولیس کانسٹیبل شہید ہوا جبکہ کئی اہلکار عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔

سی پی او حسن سکھیرا نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ کسی بھی صورت صوبائی حکومت کے وسائل، کرینیں اور گاڑیاں احتجاج کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کو سی سی ٹی وی کیمروں اور سیف سٹی منصوبے کے ذریعے کور کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے اپنا اندرونی ہیومن انٹیلی جنس نظام بھی فعال رکھا ہوا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بروقت نشاندہی کی جاسکے۔

سی پی او راولپنڈی حسن سکھیرا نے کہا کہ راولپنڈی میں تمام سیف سٹی کیمرے ایکٹو ہیں۔ اگر کوئی بلوائی انتشار پھیلاتا ہے یا توہین عدالت کا مرتکب ہوتا ہے تو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے اس کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیمروں سے حاصل ہونے والا ریکارڈ متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی میں استعمال کیا جائے گا اور اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر بھی پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ پر پی ٹی آئی میں بغاوت،جنید اکبر کی پارٹی قائدین اورممبران اسمبلی کو دھمکیاں

سی پی او کے مطابق شہر کے 150 سے زائد اندرونی اور بیرونی مقامات پر بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا سے منسلک 29 اہم داخلی راستوں، جن میں ہری پور روٹ، موٹروے اور جی ٹی روڈ شامل ہیں، پر پہلی اور دوسری حفاظتی لائنیں قائم کردی گئی ہیں۔

حسن سکھیرا نے بتایا کہ جتھوں اور بلوائیوں سے نمٹنے کے لیے پولیس میں ’’رائٹس مینجمنٹ پولیس‘‘ کے نام سے ایک خصوصی اسکواڈ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق رائٹس مینجمنٹ پولیس کے اہلکار جدید آلات سے لیس ہوں گے، جنہیں کسی بھی انتشار کی صورتحال میں شرپسند عناصر کو روکنے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سی پی او نے کہا کہ 2024 کے تجربات کے بعد پنجاب پولیس میں مخصوص رائٹ مینجمنٹ پولیس (RMP) ونگ قائم کیا گیا ہے، جو جدید اینٹی رائٹ گیئر، آلات اور خصوصی تربیت سے لیس ہے۔ سی پی او راولپنڈی کے مطابق ممکنہ احتجاج اور سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں 9 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اٹک پولیس اور اسلام آباد پولیس کے ساتھ رابطہ اور کوآرڈینیشن بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ منظم کیا گیا ہے۔ سی پی او نے کہا کہ پولیس کا بنیادی مقصد عام شہریوں، تاجروں اور مسافروں کی روزمرہ زندگی کو معمول پر رکھنا ہے۔ مری روڈ، پشاور روڈ، بینظیر بھٹو ہسپتال اور میٹرو بس روٹ پر سیکیورٹی کے ساتھ کوئیک رسپانس فورسز بھی موجود رہیں گی۔

ان کے مطابق ریسکیو 1122 اور ایئر ایمبولینسز کے لیے راستے کھلے رکھے جائیں گے، جبکہ ٹریفک ڈائیورژنز اور تازہ ترین معلومات کے لیے سوشل میڈیا پیج اور ایف ایم ریڈیو چینل 24 گھنٹے فعال رہیں گے۔ حسن سکھیرا نے بتایا کہ احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے راولپنڈی پولیس کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کی مانیٹرنگ کی جائے گی اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ گفتگو کے اختتام پر سی پی او راولپنڈی حسن سکھیرا نے شہریوں سے اپیل کی کہ ملک کا استحکام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے والدین سے خاص طور پر درخواست کی کہ وہ خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی کسی غیر قانونی یا پرتشدد سرگرمی کا حصہ بننے سے روکیں۔

Related Articles