امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’اے آئی فورس‘ بنانے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’اے آئی فورس‘ بنانے کا اعلان

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نگرانی اور اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے ایک نئی ’’اے آئی فورس‘‘ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ وہ جلد مصنوعی ذہانت کے لیے ایک خصوصی اے آئی سربراہ بھی مقرر کریں گے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکا مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ اس کی معاونت اور نگرانی کرے گا ،  موجودہ فوجداری اور سول قوانین کے ذریعے اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال سے نمٹا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر نے اس سے قبل مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ہونے والی تنقید کو بھی مسترد کرتے کہا تھا کہ امریکا کو اے آئی کے شعبے میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔

یہ بیان اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی بحث کے درمیان آیا ہے،  حال ہی میں، ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں کچھ اے آئی ماڈلز میں خرابی پیدا ہوئی ہے، جو ٹیسٹنگ ماحول میں سائبر حملے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اے آئی کی دوڑ نہیں رکے گی ! زکربرگ نے کمپنیوں کو بڑا مشورہ دیدیا

ٹرمپ کے اعلان کے بعد مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، سکیورٹی اور ممکنہ خطرات پر امریکا میں جاری بحث مزید اہم ہوگئی ہے ،  اسی دوران امریکی حکام چین کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں بھی مصنوعی ذہانت کا معاملہ اٹھانے کی تیاری کررہے ہیں۔

امریکا اور چین مصنوعی ذہانت کو معاشی اور فوجی مسابقت کے لیے اہم سمجھتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جدید چپس، ٹیکنالوجی اور اے آئی کی نگرانی سے متعلق اختلافات بھی موجود ہیں۔

امریکا کو اے آئی میں عالمی برتری برقرار رکھنے پر زور

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مصنوعی ذہانت آنے والے دور کی ایک بڑی صنعتی تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے اور امریکا کو اس شعبے میں چین اور دیگر ممالک پر اپنی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔

ٹیکنالوجی رہنماؤں کا اے آئی خطرات پر محتاط رہنے کا مطالبہ

دوسری جانب اے آئی صنعت کے بعض اہم رہنماؤں نے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار سست کرنے اور اس کے ممکنہ خطرات پر زیادہ مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک سمیت بعض ٹیکنالوجی رہنماؤں نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات پر احتیاط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

editor

Related Articles