خیبرپختونخوا کے معاملے پر حکومت کی مشاورت تیز، ایاز صادق  کی وزیر اعظم سےملاقات ،اہم بریفنگ دی

خیبرپختونخوا کے معاملے پر حکومت کی مشاورت تیز، ایاز صادق  کی وزیر اعظم سےملاقات ،اہم بریفنگ دی
خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سیاسی کشیدگی کے درمیان وفاقی سطح پر مشاورت کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اہم ملاقات کی ہے۔ملاقات میں آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایاز صادق نے وزیراعظم کو اپوزیشن سے ہونے والے پس پردہ رابطوں سے آگاہ کیا۔

اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے وفد سے اپنی ملاقات کی تفصیلات بھی وزیراعظم کے سامنے رکھیں۔

 یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس، خیبر پختونخوا میں کسی بھی آئینی اقدام سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

دونوں رہنماؤں کے درمیان قومی اسمبلی کا آئندہ اجلاس طلب کرنے کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

خیبرپختونخوا کا معاملہ زیر بحث

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبرپختونخوا کی صورتحال وفاقی حکومت کی سیاسی اور آئینی مشاورت کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ملاقات میں پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ اور پس پردہ رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر مختلف آئینی اور قانونی راستوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔

ایمرجنسی پر وفاق کا مؤقف

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

انہوں نے اس معاملے کو صوبے کی امن و امان کی صورتحال سے جوڑا ہے۔ان کے مطابق ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت زیر غور ہے۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورتحال میں پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤقف پیش کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف وطن واپس پہنچ گئے

 پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف پر اپنا ردعمل دیا ہے۔

ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی سے مشاورت کی تو پارٹی آئین اور قانون کے مطابق اپنی تجاویز دے گی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے معاملے پر فوری حتمی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پارٹی نے وفاقی حکومت کا مؤقف سننے کے بعد اپنی پالیسی طے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

editor

Related Articles