وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس، خیبر پختونخوا میں کسی بھی آئینی اقدام سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
Home - اہم خبریں - وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس، خیبر پختونخوا میں کسی بھی آئینی اقدام سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) سے ’پسِ پردہ رابطوں‘ پر غور کیا گیا، حتمی اور فیصلہ کن حکمتِ عملی کے لیے وزیراعظم کی جلد صدرِ مملکت سے ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ملکی سیاسی منظر نامے اور امن و امان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کی۔
اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور رہنما مسلم لیگ ن طلال چوہدری نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والے حالیہ ’پسِ پردہ رابطوں‘ اور بات چیت کی تفصیلات سے بھی وزیراعظم کو مکمل اعتماد میں لیا۔
خیبر پختونخوا کے لیے آئینی آپشنز
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صوبہ خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے مختلف آئینی اور قانونی امور پر اہم تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں وفاق اور صوبے کے درمیان موجودہ کھنچاؤ کو کم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی آپشنز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کوئی بھی بڑا آئینی یا قانونی قدم اٹھانے سے قبل تمام متعلقہ سیاسی و ریاستی اسٹیک ہولڈرز کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا۔
صدرِ مملکت سے اہم ملاقات کا فیصلہ
ملکی سطح پر یکجہتی اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اتحادیوں کی مشاورت کو لازمی قرار دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج یا کل صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایک اہم ملاقات کرنے والے ہیں۔
اس ملاقات میں صوبے کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حتمی لائحہ عمل کی منظوری دی جائے گی اور مستقبل کی سیاسی و آئینی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ آئینی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں خیبر پختونخوا کے سیاسی بحران کے حل کے لیے آئندہ 24 سے 48 گھنٹے انتہائی ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے سخت سیاسی اور انتظامی تناؤ پایا جاتا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔
وفاق کی جانب سے صوبے میں امن و امان کے قیام اور انتظامی معاملات کو آئین کے دائرے میں رکھنے کے لیے مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں وفاقی دارالحکومت میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت پر یہ دباؤ بڑھا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس آئینی اور سیاسی راستہ اختیار کرے۔
صورتحال کا جائزہ
واضح رہے کہ حکومت اس وقت واضح طور پر ایک ’دہری حکمت عملی‘ پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف وزیر داخلہ کے ذریعے اپوزیشن جماعت سے پسِ پردہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں تاکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں، تو دوسری جانب وزیر قانون کی تفصیلی بریفنگ اس امر کی غماز ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوتی ہے تو وفاق کے پاس آئینی اور قانونی کارروائی کا ’پلان بی‘ بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
تاہم صدرِ مملکت سے ملاقات کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کوئی بھی سخت قدم اٹھانے کا سیاسی بوجھ تنہا نہیں اٹھانا چاہتی اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اتحادیوں کی مکمل حمایت کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔