جاپان کا آؤشیما جزیرہ ، جہاں انسانوں سے کئی گنا زیادہ بلیاں رہتی ہیں

جاپان کا آؤشیما جزیرہ ، جہاں انسانوں سے کئی گنا زیادہ بلیاں رہتی ہیں

دنیا میں بہت سی جگہیں اپنی آبادی کی وجہ سے مشہور ہیں، مگر جاپان کا ایک چھوٹا سا جزیرہ اپنی غیر معمولی آبادی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ 

یہاں انسانوں سے کئی گنا زیادہ بلیاں بستی ہیں،  آؤشیما (Aoshima) نامی یہ جزیرہ اسی سبب دنیا بھر میں “کیٹس آئی لینڈ” یعنی بلیوں کے جزیرے کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انسان کم، بلیاں کئی گنا زیادہ

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب آؤشیما میں بلیوں کی تعداد انسانوں سے کئی گنا بڑھ گئی ،  جزیرے پر رہنے والے زیادہ تر لوگ عمر رسیدہ ہیں، یعنی انسانی آبادی پہلے ہی کم ہے ، ایسے میں بلیاں جزیرے کی سب سے نمایاں رہائشی بن کر سامنے آئیں۔

چوہوں سے شروع ہونے والی کہانی

اس کہانی کا آغاز بہت سادہ تھا ،  جزیرے پر بلیاں کسی نمائش یا شوق کے لیے نہیں لائی گئیں، بلکہ چوہوں سے نمٹنے کے لیے ان کی ضرورت پڑی اور مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں اور ماہی گیروں کے سامان کو چوہوں سے نقصان پہنچتا تھا، اس لیے بلیوں کو اس مسئلے کے حل کے طور پر رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا کے سب سے شور مچانے والے پرندے کون سے ہیں؟ نئی تحقیق میں دو نام سامنے آ گئے

وقت گزرنے کے ساتھ بلیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور جو بلیاں چوہوں کو بھگانے آئی تھیں، وہ آخرکار پورے جزیرے پر چھا گئیں، اور آؤشیما دنیا بھر میں “بلیوں کے جزیرے” کے طور پر مشہور ہو گیا۔

سیاحوں کی توجہ کا مرکز

آج یہ جزیرہ صرف مقامی لوگوں کا مسکن نہیں رہا بلکہ  بلیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے سیاح خاص طور پر یہاں کا رخ کرتے ہیں ، جو لوگ جانوروں سے محبت کرتے ہیں، ان کے لیے ایسا جزیرہ کسی خواب سے کم نہیں جہاں قدم قدم پر بلیاں نظر آتی ہوں۔

آؤشیما کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی ایک مسئلے کا چھوٹا سا حل بعض اوقات پوری جگہ کی پہچان بدل دیتا ہے۔ چوہوں سے جان چھڑانے کے لیے آنے والی بلیاں آج اس جزیرے کی سب سے بڑی شناخت ہیں۔

editor

Related Articles