خیبر پختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال، 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور ایمرجنسی و گورنر راج کے امکانات کے درمیان حکومت اور پاکستان تحریک انصاف آج مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے حکومتی اور پی ٹی آئی وفود کے درمیان ملاقات دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوگی جس میں موجودہ سیاسی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت متوقع ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا تھا جسے پارٹی نے قبول کرلیا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن وفود کی آج ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ہوگی۔
اس پیش رفت سے ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال بالخصوص خیبر پختونخوا کے حالات پر غور کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل مشترکہ وفد کے ذریعے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور سینیٹر راجہ ناصر عباس کی شرکت بتائی گئی ہے۔
حالیہ سیاسی کشیدگی میں 4 اکتوبر کا لانگ مارچ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بنیادی اختلافی معاملہ بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔
وزیراعظم اور حکومتی اتحاد کی حالیہ مشاورت میں ایمرجنسی سمیت دیگر آئینی آپشنز بھی زیر بحث آنے کی اطلاعات ہیں، تاہم دستیاب رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس مرحلے پر فوری طور پر کوئی ایسا اقدام نافذ کرنے کے بجائے پہلے سیاسی مذاکرات کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
لانگ مارچ کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ پارٹی کے خیبر پختونخوا سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے قیادت کو خط لکھ کر 4 اکتوبر کا احتجاج مزید مؤخر کرنے کی درخواست کی اور سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ آئینی اقدامات کے خدشات کا حوالہ دیا۔
اس سے قبل پارٹی کے اندر مارچ کی تیاریوں پر بھی تحفظات کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بعض ارکان کی جانب سے مارچ کی تیاریوں میں عدم دلچسپی پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
آج کے مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث مختلف آئینی آپشنز زیر بحث رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پہلے سیاسی حل کی کوشش کی جائے گی اور مذاکرات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔
یوں آج کی ملاقات محض ایک معمول کی سیاسی ملاقات نہیں بلکہ اس بات کا اہم اشارہ ہوگی کہ حکومت اور پی ٹی آئی آئندہ چند روز میں احتجاج، مذاکرات اور خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق معاملات کو کس سمت لے کر جاتے ہیں۔ 4 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر بیٹھنا سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم مارچ کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا۔