بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کا اختیار نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواب

بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کا اختیار نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواب

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تفصیلی جواب میں کہا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے یا تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی لازمی تصدیق نافذ کرنے کا قانونی اختیار اس کے پاس نہیں۔

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق کیس میں پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت اس کا اختیار بنیادی طور پر غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک یا ہٹانے تک محدود ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق پیکا 2016 کی دفعہ 37 اسے غیر قانونی آن لائن مواد کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتی ہے، تاہم بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نئے قانونی اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل نے نیا اے آئی ماڈل جیمنائی آراگون متعارف کرا دیا

اتھارٹی نے اپنے جواب میں بتایا کہ پیکا ترمیمی قانون 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا عمل جاری ہے۔ غیر قانونی مواد اور جعل سازی سے متعلق شکایات کے لیے بھی اس اتھارٹی کا کردار اہم ہوگا، جبکہ سائبر کرائمز اور اخلاق باختہ مواد کے خلاف کارروائی اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

پی ٹی اے نے کتنے لنکس بلاک کیے؟

پی ٹی اے کے مطابق اب تک 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد غیر قانونی آن لائن لنکس اور یو آر ایلز کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 15 لاکھ 77 ہزار سے زائد کو بلاک کیا جاچکا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق آن لائن مواد کے خلاف کارروائی کی مجموعی شرح 88.20 فیصد رہی۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کارروائی کی شرح کے حوالے سے پی ٹی اے نے بتایا کہ:

ٹک ٹاک: 88.68 فیصد
یوٹیوب: 87.34 فیصد
فیس بک: 78.57 فیصد
انسٹاگرام: 79.52 فیصد
ایکس: 48.42 فیصد

پی ٹی اے کے مطابق اخلاق باختہ مواد سے متعلق 10 لاکھ 66 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ اسلام مخالف مواد سے متعلق 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد اور ملکی سلامتی کے خلاف 46 ہزار سے زائد لنکس کے خلاف کارروائی کی گئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق پی ٹی اے کا مؤقف

پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ متعدد سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں اور نہ ہی وہ مقامی قوانین کے تحت براہ راست کام کرتی ہیں، جس کے باعث کارروائی میں قانونی اور تکنیکی مشکلات پیش آتی ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق HTTPS انکرپشن کی وجہ سے کسی پلیٹ فارم پر موجود انفرادی مواد کو الگ سے بلاک کرنا ممکن نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں بعض اوقات پوری ویب سائٹ یا سروس کو بند کرنا پڑتا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے پاکستان میں مقامی تعمیل اور گریوانس افسر مقرر کرنے کی درخواست بھی کی گئی، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔

بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات

پی ٹی اے نے بتایا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے کے تعاون سے آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔ بچوں پر آن لائن تشدد اور استحصال کی رپورٹس کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن 1121 بھی فعال کی گئی ہے۔

اتھارٹی کے مطابق انسٹاگرام پر پاکستانی صارفین کے لیے ٹین اکاونٹز نامی حفاظتی فیچر بھی متعارف کرایا جاچکا ہے، جس کا مقصد کم عمر صارفین کے لیے زیادہ محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنا ہے۔

پی ٹی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ اس کے قانونی دائرہ اختیار سے باہر آنے والی درخواست گزار کی استدعا کو مسترد کیا جائے۔دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ نے بھی کیس میں اپنے جوابات اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیے ہیں۔

editor

Related Articles