اپنے ہی گھر میں پی ٹی آئی کی تاریخی تذلیل: نعرے لاکھوں کے، سڑکیں ویران

اپنے ہی گھر میں پی ٹی آئی کی تاریخی تذلیل: نعرے لاکھوں کے، سڑکیں ویران

 خیبر پختونخوا جیسے علاقے میں جسے تحریک انصاف ہمیشہ اپنا مضبوط ترین سیاسی گڑھ اور اٹوٹ قلعہ قرار دیتی رہی ہے  پی ٹی آئی کی قیادت کو عبرتناک اور شرمناک رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں سے لاکھوں کے قافلے نکلنے کے نعرے لگائے گئے تھے، وہاں کی سڑکیں اور بازار ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کا نام نہاد قلعہ خود اس کے اپنے ہی ہاتھوں ڈھے چکا ہے۔ اس سنگین ناکامی پر یہ سیدھا اور چبھتا ہوا سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور اس کے مارچ کو واقعتاً کوئی عوامی حمایت حاصل ہے  تو پھر وہ دعویٰ کیے جانے والے لاکھوں کے مجمعے کہاں ہیں اور متعلقہ اضلاع کی وہ پی ٹی آئی قیادت کہاں روپوش ہو گئی ہے؟

یہ بھی پڑھیں :لانگ مارچ کا جنازہ نکل گیا،لاکھوں کا دعویٰ کرنے والے چند ہزار لوگ بھی نہ نکال سکے

پارٹی کے نام نہاد سیاسی گڑھ میں اس قدر ٹھنڈا اور ویران ردِعمل اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ کے پی کی عوام بھی اب تحریک انصاف کی کھوکھلی اور انتشار پسند سیاست سے سخت متنفر ہو چکی ہے۔

صوبے کے تمام اضلاع جہاں پی ٹی آئی کے منتخب اراکین کی حکومت اور وسائل موجود ہیں  وہاں سے لوگوں کا نہ نکلنا قیادت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

پارٹی کے نچلے درجے کے ورکرز اور عام شہریوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان کے ذاتی اقتدار کی جنگ کے لیے ایندھن بننے کو تیار نہیں ہیں۔ اپنے ہی گھر میں اس طرح کا ویران منظر اور عوامی بائیکاٹ تحریک انصاف کے لیے ایسا گہرا سیاسی زخم ہے جس سے نکلنا ان کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا جو غبارہ کے پی کے میں بنایا گیا تھا  وہ اسی کے اپنے اضلاع میں تار تار ہو کر رہ گیا ہے۔

editor

Related Articles