نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا! کرک میں پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کے بیچ ٹھیلے سجا لیے

نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا! کرک میں پی ٹی آئی کارکنان  نے احتجاج کے بیچ ٹھیلے سجا لیے

پیٹ کی بھوک جب سر چڑھ کر بولتی ہے تو پھر سیاسی نظریات اور انقلابی بیانیے دم توڑ دیتے ہیں ،  تحریکِ انصاف کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے سلسلے میں کرک کے مقام پر سجایا گیا سیاسی پنڈال بازار نظر آنے لگا ہے، جہاں  نعروں کی جگہ ٹھیلے والوں کی آوازوں نے لے لی ہے۔

اسلام آباد پر چڑھائی اور ‘حتمی معرکے’ کے بلند و بانگ دعوے کرک پہنچتے پہنچتے ہی ہوا  ہوگئے ، جس جگہ خودساختہ انقلابی لہر اٹھنی تھی، وہاں اب لیموں پانی اور چنے چھولے بک رہے ہیں کیونکہ  قیادت کو عوام کا خیال ہی نہیں ۔

سرکاری وسائل اور گاڑیوں کے ساتھ نکلنے والے اس قافلے کے پنڈال میں جہاں رہنما کارکنان کو اکیلے چھوڑ گئے وہیں کارکنان  نے روزی روٹی کی دوڑ اور بال بچوں کاپیٹ بھرنے کیلئے  اپنے اپنے ریڑھے اور چھابڑے سجا لیے ہیں ۔

  ایک طرف قیادت کی جانب سے اسلام آباد فتح کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ پنڈال میں موجود عوام سیاسی مقصد کے بجائے دو وقت کی روٹی اور دیہاڑی کمانے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

عوام کی ترجیحات اور ضروریات سے غافل صوبائی حکومت 

 یہ محض ایک سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اس بیانیے کی موت ہے جو عوام کو محض سڑکوں پر لانے کے لیے تو استعمال کرتا ہے لیکن ان کی معاشی اور حقيقي ترجیحات سے بالکل غافل رہتا ہے جسے صرف ایک قیدی کو جیل سے نکلوانا ہے چاہے اس کیلئے عوام کو دووقت کی روٹی میسر ہو یا نہ ہو اسے کوئی فکر نہیں ،اس کے بچے بھوک سے ترستے رہیں ،  کارکنان سڑکوں پر خوار ہوجائے انہیں کیا۔

 پی ٹی آئی کی قیادت خود تو بلٹ پروف گاڑیوں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور کارکنان کو سڑکوں پر لا کر ‘سیاسی ایندھن’ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی کا مارا ہوا عام ورکر اب سیاسی نعروں سے پیٹ بھرنے کے بجائے جلسہ گاہوں میں لیموں پانی ، چائے اور پکوڑے بیچ کر اپنی روزی روٹی تلاش کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

 کرک میں سجے یہ ٹھیلے پارٹی کے اس دعوے پر بڑا سوالیہ نشان ہیں جس میں کروڑوں عوام کو سڑکوں پر لانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، کیونکہ پنڈال میں سیاسی جوش و خروش سے زیادہ بازار کا رنگ غالب نظر آ رہا ہے۔

 یہ مناظر اس گہرے تضاد کو بھی  بے نقاب کرتے ہیں جو پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے غریب کارکن کے درمیان قائم ہو چکا ہے ، قیادت عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اور سرکاری آسائشوں کا لطف اٹھاتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کی کالز دیتی ہے، لیکن سڑکوں پر اترنے والا عام ورکر مہنگائی اور معاشی بدحالی کے اس دوڑ میں یہ سمجھ چکا ہے کہ سیاسی نعروں سے بچوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔

عدالتی شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہو یا  نیشنل ایکشن پلان سے  لاپروائی اور سیکورٹی خدشات کے باوجود اس قسم کا احتجاج اب ایک ‘سیاسی شو’ سے زیادہ ‘معاشی مجبوری کی منڈی’ نظر آ رہا ہے،  کرک کا پنڈال اب کسی انقلاب کا پیش خیمہ نہیں، بلکہ غریب کارکن کی اس تلخ حقیقت کا مہر ثبت کر رہا ہے جہاں نظریات پر پیٹ کی بھوک غالب آ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست سے عوام اکتا گئے؟ لانگ مارچ کے دوسرے روز بھی لاتعلق

ناقدین کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں معیشت ، امن و امان، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، اور بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں، ایسے میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے سیاسی احتجاج پر توجہ مرکوز کرنا عوام کے دیے گئے ووٹ سے بددیانتی بھی ہے اور ان کی ضروریات سے جان بوجھ کر چشم پوشی بھی ہے کیونکہ صوبائی حکومت اتنے سالوں میں بھی عوام کو اسکی بنیادی سہولیات بھی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔

editor

Related Articles