بنوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آزاد فیکٹ چیک کے مطابق ایک صحافی نے ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی تعداد کو آج کے بنوں کے مناظر قرار دیتے ہوئے ایسا تاثر دیا جو دستیاب شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق مذکورہ ویڈیو دراصل پرانی ہے اور اسے موجودہ صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔ یوں پرانے مناظر کو آج کے واقعات کے طور پر پیش کرنے سے سوشل میڈیا صارفین کو گمراہ کن تاثر دیا گیا۔
فیکٹ چیک میں واضح کیا گیا کہ ویڈیو کے پرانے ہونے کی تصدیق کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسے آج کے بنوں کے حالات کی عکاسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ماضی میں بھی بنوں سے متعلق پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ کر پھیلائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک وائرل ویڈیو کو 2025 میں بنوں میں دہشت گرد حملے کے مناظر قرار دیا گیا، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل اکتوبر 2024 کے کراچی ایئرپورٹ دھماکے کی ویڈیو تھی۔
اسی طرح بنوں کے ایک احتجاج سے متعلق پرانی ویڈیو کو بعد میں دوسرے علاقے کے تازہ واقعات سے جوڑ کر شیئر کیا گیا تھا جس کی تحقیق میں اصل تاریخ اور پس منظر سامنے آیا۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق موجودہ معاملے میں بھی بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ پرانے بصری مواد کو موجودہ صورتحال کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فیکٹ چیک نے اسے غلط معلومات کے پھیلاؤ کے طور پر نشان زد کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی حساس سیاسی یا سکیورٹی صورتحال میں ویڈیو محض اس بنیاد پر موجودہ واقعے کا ثبوت نہیں بن جاتی کہ اسے آج کے واقعے کے عنوان یا دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہو۔ ویڈیو کی اصل تاریخ، مقام اور پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود ریکارڈ کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ آزاد فیکٹ چیک پہلے بھی پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کیے جانے کے معاملات کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔
نتیجتاً، بنوں کے آج کے حالات کے بارے میں مذکورہ ویڈیو کو بطور تازہ منظر پیش کرنا درست نہیں جبکہ اس کی بنیاد پر لوگوں کی تعداد یا موجودہ صورتحال سے متعلق اخذ کیا گیا تاثر بھی قابلِ اعتماد نہیں رہتا۔