اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا دوسرا دن شروع ہوگیا، تاہم مارچ کے راستے میں مجموعی عوامی ردعمل اور شرکت سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری اپنے معمولات زندگی میں مصروف دکھائی دیے جبکہ لانگ مارچ کے حوالے سے وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا جس کی توقع پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بڑے عوامی اجتماع کے دعووں سے کی جا رہی تھی۔
پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے مارچ کی قیادت شروع کی، جبکہ پارٹی کی جانب سے اسے عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات کے حصول کی جدوجہد قرار دیا گیا ہے۔
دوسرے روز مارچ کے راستے میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے کاروبار، ملازمتوں، تعلیمی سرگرمیوں اور روزمرہ کے دیگر کاموں میں مصروف دکھائی دی۔ مقامی سطح پر یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ عام شہری سیاسی کشمکش کے بجائے اپنے معاشی اور گھریلو مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی اپنی قیادت اور کارکنوں کے ذریعے اعلان کردہ بڑے عوامی ردعمل کو مستقل اور وسیع عوامی شرکت میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں۔ پہلے روز اے پی کے مطابق 5 ہزار سے زائد حامی اسلام آباد کی جانب مارچ میں شریک ہوئے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں لاکھوں افراد جمع کرنے کے دعوے اس سے کہیں بڑے پیمانے کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بعض شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں امن و امان، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں، ایسے میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے سیاسی احتجاج پر توجہ مرکوز کرنا عوام کے ایک حصے کے لیے قابلِ اعتراض بن رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کو عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن سیاسی دباؤ قرار دیا جا رہا ہے لیکن عوامی سطح پر اس حکمت عملی کے حوالے سے اختلافی آرا بھی موجود ہیں۔ بعض شہریوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مسلسل احتجاج اور سڑکوں پر سیاسی کشمکش سے عام آدمی کے مسائل حل ہوں گے یا اس سے معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔
یوں لانگ مارچ کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ قافلے اسلام آباد کی طرف کتنی دور پہنچتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ راستے میں انہیں کتنی وسیع عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور کیا یہ احتجاج عام شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔