اسلام آباد، راولپنڈی میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد، راولپنڈی میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی میں شیڈول کرکٹ سیریز کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کی میٹرو بس سروس ٹیموں کی نقل و حرکت کے دوران جزوی طور پر معطل رہے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے میچز کے دوران مخصوص سٹیشنز مکمل بند رکھنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 9 سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے 3 ٹی 20 میچز کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فیول سبسڈی اسکیم ، 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے مستقبل کے لیے بڑااعلان کر دیا

صدر اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک میٹرو بس سروس اس وقت مکمل بند کر دی جائے گی جب کرکٹ ٹیمیں ہوٹل سے اسٹیڈیم یا اسٹیڈیم سے ہوٹل کا سفر کر رہی ہوں گی۔

میٹرو بس ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر میچز کے دوران ’ختمِ نبوت‘، ’آئی جے پی روڈ‘ اور ’سکسٹھ روڈ‘ سٹیشنز مسافروں کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:میٹرو بس ،اورنج لائن ٹرین کے لیے بھرتیوں کا اعلان

اگرچہ سیکیورٹی پابندیوں کا یہ مجموعی دورانیہ 4 اکتوبر سے 13 نومبر تک محیط ہے، تاہم بس سروس اس پورے عرصے میں مسلسل بند نہیں رہے گی بلکہ ضرورت کے تحت اسے روکا جائے گا۔

مہمان ٹیم کی آمد اور آئندہ کا شیڈول

اس اہم سیریز کے لیے سری لنکن کرکٹ ٹیم کا پہلا دستہ اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ 13 رکنی اس ابتدائی گروپ میں 8 کھلاڑی اور 5 مینجمنٹ اہلکار شامل ہیں۔

اسلام آباد پہنچنے والے کھلاڑیوں میں کوسل مینڈس، داسن شناکا، مہیش تھیکشانا اور ایشان ملنگا نمایاں ہیں۔ دیگر کھلاڑی اور آفیشلز بھی افتتاحی میچ سے قبل مختلف گروپس کی صورت میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔

اس ٹی 20 سیریز کے فوراً بعد راولپنڈی اسٹیڈیم 18 اکتوبر سے شروع ہونے والی ایک بڑی سہ فریقی ون ڈے سیریز کی میزبانی بھی کرے گا جس میں پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ بھی 9 سے 13 نومبر تک اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔

بین الاقوامی کرکٹ اور شہر کا ٹریفک نظام

راولپنڈی میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی شائقین کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑی خوشخبری رہی ہے۔ پنڈی کرکٹ سٹیڈیم کا شمار ملک کے مصروف ترین اور اہم ترین کرکٹ گراؤنڈز میں ہوتا ہے۔

تاہم اس اسٹیڈیم کا شہر کی مرکزی شاہراہ، مری روڈ کے بالکل قریب واقع ہونا ہر بڑی سیریز کے دوران ٹریفک کی روانی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:میٹرو بس سروس کے حوالے سے شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی

سیکیورٹی پروٹوکولز کے باعث مری روڈ کی بندش سے جڑواں شہروں کا نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

سیکیورٹی اقدامات اور عوامی مسائل

بین الاقوامی کرکٹ کا انعقاد ملک کے پرامن تشخص کے لیے ناگزیر ہے، مگر انتظامی سطح پر ان ایونٹس کی منصوبہ بندی میں عوام کی سہولت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:بس بہت ہو گیا، ہر دعوے کا حساب دینا ہوگا، سہیل آفریدی کے بیانات پر حسن ایوب کا سخت ردعمل

حیران کن امر یہ ہے کہ بسوں کی بندش کے درست اوقات اور شہریوں کے لیے کسی بھی قسم کے متبادل ٹرانسپورٹ پلان کے حوالے سے کوئی پیشگی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

روزانہ لاکھوں کی تعداد میں جڑواں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے طلبہ اور ملازمین کا انحصار اسی میٹرو سروس پر ہوتا ہے۔

سیکیورٹی خدشات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن ایک جدید شہر کے انتظامی ڈھانچے کو چاہیے کہ وہ وی آئی پی موومنٹ اور عوامی سہولت کے درمیان ایک مؤثر توازن قائم کرے۔

بغیر کسی متبادل روٹ یا واضح ٹائمنگ شیڈول کے مرکزی ٹرانسپورٹ کو معطل کر دینا شہریوں کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا باعث بنے گا، جو ایک بین الاقوامی ایونٹ کی خوشیوں کو عوامی سطح پر ماند کرنے کے مترادف ہے۔

Related Articles