پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کا لانگ مارچ منزل پر پہنچنے سے قبل ہی فلاپ ہو گیا ہے، 40 لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، تمام تر کوششوں کے باوجود مٹھی بھر کارکن جمع، عوام نے لانگ مارچ سے مکمل لاتعلقی ظاہر کردی۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ اپنی منزل پر پہنچنے سے قبل ہی شدید ناکامی کا شکار ہو گیا ہے، جہاں لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لانے کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور پنڈال میں محض مٹھی بھر کارکن ہی نظر آئے۔
5 اکتوبر کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق پی ٹی آئی کے انتشاری ٹولے کی جانب سے عوامی حمایت کے جو بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے تھے، وہ گراؤنڈ پر مکمل طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے ڈی سی سرکٹ ہاؤس کرک میں تمام تر سرکاری سہولیات کے باوجود، جلسہ گاہ میں محض 400 سے 500 افراد کی قلیل اور مایوس کن تعداد ہی جمع ہو سکی۔ تمام تر تیاریوں کے باوجود عوام نے اس بلاوے پر کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
منصوبے کے مطابق گنڈی چوک کے بعد کرک سے کوہاٹ کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا گیا تھا، مگر پنڈال کی خالی نشستیں ناقص منصوبہ بندی اور عوام کی عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہیں۔
کوہاٹ شہر سے 25 کلومیٹر دور ’لاچی گراؤنڈ‘ میں مارچ کا اگلا پڑاؤ کا اعلان دراصل اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش محسوس ہوتی ہے۔
عوام نے اس پرتشدد اور غیر مستحکم بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث جلسہ گاہ میں خلوت کا منظر ہے۔
تسلسل کے ساتھ ناکام ہوتے سیاسی ڈرامے
ماضی میں بھی اس قسم کے احتجاجی مارچز اور سیاسی شوبازی کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کے جذبات کو استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
تاہم مسلسل سیاسی عدم استحکام اور عوامی مسائل سے نظریں چرانے کے باعث اب عوام نے اس انتشاری سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
جلسوں میں مسلسل گرتی ہوئی حاضری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صوبے کے لوگ اب سڑکوں کی سیاست کے بجائے امن اور ترقی چاہتے ہیں۔
انتظامی و سیاسی پہلو، فلاپ شو کا حتمی نتیجہ
سرکاری املاک اور گاڑیوں کے استعمال کے باوجود عوام کو متحرک کرنے میں ناکامی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ تحریک اپنی تمام تر سیاسی رمق کھو چکی ہے۔
محض 400 سے 500 لوگوں کے محدود اجتماع کو ’عوامی مارچ‘ کا نام دینا اور لاچی کے مقام پر طاقت کے مظاہرے کی امید رکھنا محض ایک سیاسی خود فریبانہ سوچ ہے۔
عوام کے اس کھلے بائیکاٹ اور عدم دلچسپی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کے دوران محض انتشار پھیلانے والے عناصر کو عوام نے ہر سطح پر مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔