کرک میں سیاسی شو فلاپ ،عمران خان کی رہائی مہم کارکنان کی ڈانس پارٹی بن گئی

کرک میں سیاسی شو فلاپ ،عمران خان کی رہائی مہم کارکنان کی ڈانس پارٹی بن گئی

پاکستان تحریکِ انصاف کے نام نہاد لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک کے دوسرے دن ہی اس کے دعووں، نعروں کا پول کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ 

پی ٹی آئی کیجانب سے احتجاجی خودساختہ لانگ مارچ آج دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرنے والی اس جماعت کا یہ احتجاج اب سیاست کم اور ایک بے ہنگم تفریحی میلہ زیادہ لگ رہا ہے، جہاں کارکنان پنڈال میں ڈانس اور بھنگڑوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے بیانیے کی ایک حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف پارٹی کے ہوشربا دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور کرک کی جلسہ گاہ میں “یوتھیا سمندر” کے بجائے بمشکل گنتی کے چند سو کارکنان ہی جمع ہو سکے، وہیں دوسری طرف سیاسی قیادت کا رویہ انتہائی شرمناک حد تک لاتعلق ہے۔

 وزیرِ اعلیٰ اور دیگر مرکزی رہنما ڈی سی سرکٹ ہاؤس کے پرتعیش اور ائر کنڈیشنڈ کمروں میں وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں، جبکہ  پنڈال میں موجود گنے چنے کارکن محض تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں یا پھر ڈانس کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

سیاسی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ احتجاجی پنڈال میں بمشکل جمع ہوئے کارکنان ڈی جے کے گانوں پر باقاعدہ محو رقص ہیں ، کیا  عمران خان کی رہائی کیلئے یہ طریقہ کام آئے گا  ؟ ۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جو قیادت اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر چھوڑ کر خود پروٹوکول اور کمروں کی آسائشوں میں چھپی بیٹھی ہو، اور جہاں عوام برائے نام ہی اس میں شامل ہو اور جو باقی رہ جائے وہ  پنڈال ڈانس پارٹی  میں تبدیل ہو جائیں، وہاں سے کسی تبدیلی نے کیا آنا  ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا! کرک میں پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کے بیچ ٹھیلے سجا لیے

ناقدین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ رقص اور بھنگڑوں سے عمران خان کی رہائی کیسے ممکن ہوگی ،  ان کے مطابق رہائی کا راستہ عدالتوں اور سیاسی مذاکرات سے گزرتا ہے، جن میں حالیہ بات چیت اتفاق کے بغیر ختم ہو چکی ہے۔

اگر اس دباؤ کا مقصد حکومت کو مذاکرات پر لانا ہے تو اس کے لیے بڑی اور منظم عوامی شرکت چاہیے، محض علامتی موجودگی نہیں۔

 قافلے کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ سے پہلے لاچی گراؤنڈ میں طے ہے، مگر کرک کے اس ‘فلاپ شو’ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ لانگ مارچ تحریکِ انصاف کے زوال اور سیاسی ناپختگی کا ایک اور منہ بولتا ثبوت بن چکا ہے۔

editor

Related Articles