پاکستان تحریکِ انصاف کے نام نہاد لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک کے دوسرے دن ہی اس کے دعووں، نعروں کا پول کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
پی ٹی آئی کیجانب سے احتجاجی خودساختہ لانگ مارچ آج دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرنے والی اس جماعت کا یہ احتجاج اب سیاست کم اور ایک بے ہنگم تفریحی میلہ زیادہ لگ رہا ہے، جہاں کارکنان پنڈال میں ڈانس اور بھنگڑوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے بیانیے کی ایک حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف پارٹی کے ہوشربا دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور کرک کی جلسہ گاہ میں “یوتھیا سمندر” کے بجائے بمشکل گنتی کے چند سو کارکنان ہی جمع ہو سکے، وہیں دوسری طرف سیاسی قیادت کا رویہ انتہائی شرمناک حد تک لاتعلق ہے۔
وزیرِ اعلیٰ اور دیگر مرکزی رہنما ڈی سی سرکٹ ہاؤس کے پرتعیش اور ائر کنڈیشنڈ کمروں میں وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں، جبکہ پنڈال میں موجود گنے چنے کارکن محض تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں یا پھر ڈانس کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔
سیاسی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ احتجاجی پنڈال میں بمشکل جمع ہوئے کارکنان ڈی جے کے گانوں پر باقاعدہ محو رقص ہیں ، کیا عمران خان کی رہائی کیلئے یہ طریقہ کام آئے گا ؟ ۔
🚨🚨عمران خان کی رہائی کیلئے تیار کی جانے والی ٹائیگر فورس۔۔
@SohailAfridiISF https://t.co/SPVYR8zGmG— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 5, 2026


