سعودی عرب نے نومبر کیلئے ایشیائی خریداروں کو خام تیل کی قیمت میں غیر متوقع کمی کردی ہے۔ اس فیصلے سے ایشیا کیلئے سعودی تیل کی قیمتیں چھ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے عرب لائٹ خام تیل کی نومبر کی قیمت عمان اور دبئی کی اوسط قیمت سے پانچ ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے۔
یہ قیمت اکتوبر کے مقابلے میں تین ڈالر فی بیرل کم ہے۔ جون 2020 کے بعد ایشیائی خریداروں کیلئے یہ سب سے بڑا رعایتی فرق ہے۔
دیگر اقسام بھی سستی
آرامکو نے ایشیا کیلئے عرب میڈیم اور عرب ہیوی خام تیل کی قیمتوں میں بھی پانچ ڈالر فی بیرل کمی کردی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل بھی بحال ہوئی ہے۔
سعودی اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ مارکیٹ کے کئی تجزیہ کار نومبر کیلئے قیمت میں اضافے کی توقع کررہے تھے۔ بعض اندازوں میں پانچ ڈالر فی بیرل تک اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
اس کے برعکس سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کیلئے قیمت کم کرکے عالمی تیل منڈی کو ایک مختلف اشارہ دیا ہے۔
یورپ کیلئے قیمت بڑھا دی
سعودی عرب نے ایشیا کے برعکس شمال مغربی یورپ کیلئے نومبر کے خام تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر فی بیرل اضافہ کیا ہے۔
بحیرہ روم کے خطے کیلئے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکا کیلئے نومبر کی قیمتیں اکتوبر کی سطح پر برقرار رکھی گئی ہیں۔
اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی قیمتوں کا فیصلہ مختلف خطوں میں طلب اور رسد کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔
ایشیا سعودی عرب کی خام تیل کی فروخت کیلئے اہم منڈی ہے۔ قیمت میں کمی کے ذریعے اس خطے میں سعودی تیل کی مسابقتی حیثیت مضبوط رکھنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔
پس پردہ کیا ہے؟
عالمی تیل منڈی میں حالیہ ہفتوں کے دوران سپلائی کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے۔
اس کے باوجود تیل کی ترسیل کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ خلیج سے ایشیا تک بڑے تیل بردار جہازوں کے کرائے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کیلئے کیا مطلب؟
پاکستان ایشیا کی اہم توانائی منڈی میں شامل ہے۔ ملک کی پٹرولیم ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی قیمت میں کمی پاکستانی خریداروں کیلئے بھی اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کا براہ راست اثر مقامی پٹرولیم قیمتوں پر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی خام تیل کے ساتھ کئی دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ان میں درآمدی اخراجات، شرح تبادلہ، ٹیکس اور دیگر حکومتی عوامل شامل ہوتے ہیں۔
اس لیے سعودی خام تیل کی قیمت میں کمی کو پاکستان میں فوری پٹرول سستا ہونے کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔