سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران ہزہائنس میر علی مراد خان تالپور دوم 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انتقال سے سندھ کی ایک اہم تاریخی ریاست کے دور کی آخری زندہ کڑی بھی ختم ہوگئی۔
اہل خانہ نے میر علی مراد خان تالپور کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ وہ سکھر کے ایس آئی یو ٹی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر کے بعد خیرپور اور کوٹ ڈیجی میں سوگ کی فضا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے مرحوم کے انتقال پر ضلع بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔
خیرپور ریاست کیا تھی؟
خیرپور موجودہ سندھ کے علاقے میں قائم ایک سابق ریاست تھی۔ اسے تالپور خاندان نے 1783ء میں قائم کیا تھا۔
یہ ریاست برطانوی دور میں بھی ایک الگ حیثیت رکھتی تھی۔ ریاست کے اپنے حکمران اور انتظامی ڈھانچہ موجود تھا۔
قیام پاکستان کے وقت بھی ریاست خیرپور اپنی الگ سیاسی حیثیت رکھتی تھی۔ 3 اکتوبر 1947ء کو ریاست نے پاکستان سے الحاق کیا۔
الحاق کے بعد بھی خیرپور کچھ عرصہ الگ ریاستی حیثیت میں قائم رہی۔ 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس حیثیت کا خاتمہ ہوگیا۔
یوں موجودہ خیرپور ضلع کو سابق ریاست خیرپور سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ آج یہاں کوئی بادشاہ یا والی حکومت نہیں کرتا۔
آخری حکمران کون تھے؟
میر علی مراد خان تالپور دوم 29 جون 1933ء کو برطانیہ کے شہر برائٹن میں پیدا ہوئے۔ وہ میر فیض محمد خان ثانی کے صاحبزادے تھے۔
وہ کم عمری میں ریاست خیرپور کے والی بنے۔ مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق وہ 1947ء میں ریاست کے حکمران بنے تھے۔
ریاست کے پاکستان سے الحاق کے وقت بھی میر علی مراد خان تالپور ہی حکمران تھے۔ اسی وجہ سے انہیں سابق ریاست خیرپور کا آخری حکمران کہا جاتا ہے۔
یہ لقب اس بات کا مطلب نہیں کہ وہ موجودہ خیرپور ضلع پر 1955ء کے بعد بھی حکمرانی کرتے رہے۔ ریاستی نظام ختم ہونے کے بعد ان کی حکمران کی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔
تاریخ کا اہم موڑ
ریاست خیرپور کا پاکستان سے الحاق ملکی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ بعد میں ریاست کو پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کر دیا گیا۔
1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ خیرپور کی الگ ریاستی حیثیت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ اس طرح تالپور حکمرانوں کی کئی نسلوں پر محیط ریاستی حکمرانی کا باب بند ہوگیا۔
تالپور خاندان کی تاریخی نشانیاں آج بھی خیرپور میں موجود ہیں۔ کوٹ ڈیجی قلعہ اور فیض محل اس تاریخی دور کی نمایاں یادگاروں میں شامل ہیں۔
میر علی مراد خان تالپور دوم نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس تاریخی ورثے سے وابستگی میں گزارا۔ ان کی وفات سے سابق ریاست خیرپور کی تاریخ سے جڑی ایک اہم شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی۔
تعلیم اور زندگی
میر علی مراد خان تالپور کی ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ برطانیہ سے وابستہ رہا۔ ان کی پیدائش بھی برائٹن میں ہوئی تھی۔
اہل خانہ کے مطابق انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی۔
ان کی شخصیت ریاستی تاریخ اور تالپور خاندان کے ورثے سے جڑی رہی۔ ان کی وفات پر خیرپور میں سرکاری سطح پر بھی سوگ کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک دور کا اختتام
خیرپور ریاست کا وجود آج باقی نہیں رہا۔ تاہم اس ریاست کی تاریخ سندھ کی سیاسی اور تہذیبی تاریخ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
میر علی مراد خان تالپور دوم اسی ریاستی دور کی آخری نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے انتقال کے ساتھ خیرپور کی سابق ریاستی تاریخ سے وابستہ ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا۔