ٹرمپ کا جنگ بندی سے انکار،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

ٹرمپ کا جنگ بندی سے انکار،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ایران نے جنگ بندی کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز دی تھی، تاہم اس پیشکش کے مسترد ہونے کے بعد سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

ایشین ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.1 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 107.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 2.1 فیصد اضافے کے بعد 94.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

آبنائے ہرمز اہم کیوں؟

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث خطے میں جنگ یا سمندری آمدورفت میں رکاوٹ کا خدشہ عالمی توانائی کی منڈی پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کے بعد گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی دیکھی گئی تھی، تاہم امریکی انکار کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوگیا،تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی۔

مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ، بجلی اور مختلف اشیا کی پیداواری لاگت کو متاثر کرسکتا ہے۔

عالمی منڈی کی نظریں خطے پر

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت کی صورتحال اب عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم عوامل بن گئی ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles