پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا چار اکتوبر سے جاری لانگ مارچ پشاور شہر میں داخل ہو گیا ہے لیکن معاشی بدحالی کا شکار صوبے کی عوام تاحال اپنی بنیادی سہولیات اور و ضروریات کا کشکول لیے حکومت کی جانب نظریں جمائے بیٹھی ہے کہ کب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک قیدی کی رہائی کو چھوڑ کر چار کروڑ صوبے کی عوام کی حالت پر نظر ڈالیں گے اور ان کے وسائل ان پر خرچ کرینگے ۔
خیبرپختونخوا میں اس وقت غربت، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا کچومر نکال رکھا ہے ، صوبے کا عام شہری اور سرکاری ملازمین دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے لیکن حیرت اور المیہ یہ ہے کہ صوبے کے عوام کی اس بدتر حالت پر توجہ دینے کے بجائے، سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے لانگ مارچ اور سیاسی دنگلوں پر بے دریغ وسائل کا ضیاع اور شاہانہ اخراجات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کردیا ، سہیل آفریدی کا خالی کرسیوں سے خطاب، گانڈی چوک میں صرف چند درجن کارکن موجود
بھوک سے بلکتا صوبہ اور سیاسی تماشےایک طرف خیبرپختونخوا کے غریب عوام اور ملازمین مہنگائی اور کٹی ہوئی تنخواہوں یا ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب کر فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور دوسری طرف اقتدار کے متلاشی رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کروڑوں روپے اڑا رہے ہیں۔
ملازمین سراپا احتجاج
ایک طرف عوام سڑکوں پر مہنگائی، بے روزگاری اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، جبکہ دوسری طرف لانگ مارچ کے کیمپوں میں بڑی بڑی دیگیں سجائی گئی ہیں اور شاہانہ کھانوں کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
🚨خیبرپختونخوا میں عوام فاقوں پر، صوبے میں بے روزگاری کی حالت بدتر ترین، دوسری طرف سہیل آفریدی کا لانگ مارچ پر شاہانہ خرچ جاری۔۔
@SohailAfridiISF https://t.co/NHnkyUCBmU— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 8, 2026


