خیبرپختونخوا کے عوام ’پی ٹی آئی‘ کی اصلیت جان چکے، لانگ مارچ مکمل فلاپ، پارٹی جلد انجام کو پہنچنے والی ہے، صوبائی ارکانِ اسمبلی

خیبرپختونخوا کے عوام ’پی ٹی آئی‘ کی اصلیت جان چکے، لانگ مارچ مکمل فلاپ، پارٹی جلد انجام کو پہنچنے والی ہے، صوبائی ارکانِ اسمبلی

ارکانِ صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ اور ارباب زرک خان نے ’پی ٹی آئی‘ کے لانگ مارچ کو ناکام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام جھوٹے وعدوں کی اصلیت جان کر اس جماعت کو مسترد کر چکے ہیں۔ 

آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھڑے بندیوں اور عوامی مایوسی کا شکار یہ پارٹی اپنے انجام کے قریب ہے اور اس کا مارچ کسی صورت اسلام آباد نہیں پہنچ سکتا۔

ایم پی اے مہر سلطانہ اور ایم پی اے ارباب زرک خان نے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ احتجاجی مہم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مکمل ناکام،اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں،رانا ثنا اللہ

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے جب 27 ستمبر کو اس مارچ کا اعلان کیا تھا، تو ہم نے اسی وقت واضح کر دیا تھا کہ یہ مہم کامیاب نہیں ہوگی۔

ان کے مطابق، صوبے کے عوام اب اس حکومت کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ صرف بلند و بانگ اعلانات اور دعوے کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات کے نام پر ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

نوجوانوں سے جھوٹے وعدے اور ورکرز کی ناراضی

ارکانِ اسمبلی نے واضح کیا کہ عوام بالخصوص نوجوان طبقہ اس حکومت سے شدید نالاں ہے۔ نوجوانوں کو روزگار دینے کی بڑی بڑی بھڑکیں ماری گئیں، لیکن عملی طور پر حکومت اس میں مکمل ناکام رہی ہے۔

اسی بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی وجہ سے آج خیبرپختونخوا کا نوجوان ان سے بدظن ہے، یہاں تک کہ پارٹی کے اپنے نظریاتی ورکرز بھی قیادت سے سخت خفا ہیں۔

لانگ مارچ کی ناکامی اور ہدف کا ابہام

ایم پی اے ارباب زرک خان نے احتجاج کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی زاویے سے لانگ مارچ نہیں بلکہ مشکل سے ایک جلسہ معلوم ہو رہا ہے۔

شرکا کی تعداد کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر 20 لاکھ افراد کی موجودگی کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، وہاں تو ہزاروں افراد بھی نہیں تھے۔

اس مارچ کی سمت ہی متعین نہیں، یہ کبھی ایک طرف نکل جاتا ہے تو کبھی دوسری طرف۔ ان حالات میں یہ ہجوم کسی صورت اسلام آباد نہیں جا سکتا۔

پارٹی کے اندرونی اختلافات اور انجام

ارکانِ اسمبلی نے پیش گوئی کی کہ اس جماعت کا اختتام اب زیادہ دور نہیں ہے۔ پارٹی کے اندر بے شمار گروپس اور دھڑے بن چکے ہیں، جس کے بعد اس سیاسی ڈھانچے کا مزید چلنا ناممکن ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ ’پی ٹی آئی‘ کی جانب سے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے اس احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا، جس کی فرنٹ لائن قیادت خیبرپختونخوا حکومت کر رہی ہے۔

تاہم صوبے میں طویل عرصے سے برسرِاقتدار ہونے کی وجہ سے اس جماعت کو مقامی سطح پر خراب طرزِ حکمرانی، معاشی مسائل اور بے روزگاری پر اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل اور شدید تنقید کا سامنا ہے۔

 مزید پڑھیں:نہ ٹینٹ، نہ کرسیاں اور نہ سایہ، ضلعی عہدیداروں کے بلند و بانگ دعوے ٹھس، پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گنڈی چوک‘ میں ہی ہوا نکل گئی

سیاسی منظر نامے کے موجودہ حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد محض بیانیے کی بنیاد پر عوامی جوش و خروش کو سڑکوں پر لانا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کو اقتدار مخالف رجحانات کا سامنا ہے۔

معاشی چیلنجز اور روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ووٹرز کی توقعات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ مزید برآں، تنظیم کے اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی کا ابہام اس احتجاجی تحریک کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔

اگر سیاسی حکمتِ عملی اور تنظیمی ڈھانچے میں یہی انتشار برقرار رہا، تو مستقبل قریب میں اس قوت کے لیے اپنی عوامی مقبولیت اور سیاسی بقا کو برقرار رکھنا ایک انتہائی سنگین چیلنج بن جائے گا۔

Related Articles