پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں بھارت کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نئی دہلی افغانستان میں انسانی امداد کے لبادے میں ’طالبان‘ حکومت کو لاجسٹک اور مادی سہولیات فراہم کر کے پاکستان کے خلاف پراکسی دہشت گردی کروا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مستقل مشن کے کونسلر محمد جواد اجمل نے 7 اکتوبر کو بھارتی نمائندے کی جانب سے دیے گئے بیانات کے جواب میں اپنے ’حقِ جواب‘ کا استعمال کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشتگردی کی بھاری قیمت کا پورا ادراک ہے اور پاکستان اب بھارتی سرپرستی میں جاری اس بزدلانہ کارروائیوں کا ہر فورم پر مقابلہ کر رہا ہے۔
افغان سر زمین اور پراکسی گروہوں کا استعمال
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ افغان انتظامیہ کے لیے بھارت کی ’نئی محبت‘ کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے۔ نیو دہلی وہاں انسانی امداد کی آڑ میں طالبان حکام کو لاجسٹک اور مادی سہولیات فراہم کر رہا ہے تاکہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرائی جا سکیں۔
بھارت افغانستان میں موجود اپنے پراکسی گروہوں کا استعمال کر رہا ہے، جن میں کالعدم ’تحریکِ طالبان پاکستان‘ (جسے پاکستان ’فتنہ الخوارج‘ قرار دیتا ہے) اور ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ (جسے ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دیا گیا ہے) شامل ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
محمد جواد اجمل نے دنیا کو خبردار کیا کہ بھارت خطے میں تفرقہ اور شرانگیزی پھیلانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیو دہلی حکومت نے اسلاموفوبیا اور انتہا پسندانہ نظریات کو قومی دھارے میں شامل کر لیا ہے۔
بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو یکسر تبدیل کرنے کے لیے سٹرکچرل انجینیئرنگ کر رہا ہے۔
پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے جابرانہ مؤقف کو یکسر مسترد کرتا ہے اور اس بات پر قائم ہے کہ یہ علاقہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تابع ایک متنازع علاقہ ہے۔
کلبھوشن یادو کا اعتراف اور ریاستی دہشتگردی
پاکستانی مندوب نے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادو کی پاکستانی سرزمین سے گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بھارتی ریاستی دہشتگردی کا سب سے بڑا اور جینا جاگتا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کلبھوشن یادو نے پاکستان کے اندر جند گی سے کھیلنے، جاسوسی، تخریب کاری اور متعدد دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔
بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگز کا عالمی جال
سفارت کار نے بھارت کی جانب سے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل اور قاتلانہ سازشوں کا معاملہ بھی شد و مد سے اٹھایا۔
انہوں نے امریکی عدالت میں سکھ راہنما کے قتل کی سازش کے جرم کا اعتراف کرنے والے نکھل گپتا کے کیس اور کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیو دہلی کے یہ غیر قانونی اقدامات اب ایک ’عالمی خطرہ‘ اور اس کا مسلسل طرزِ عمل بن چکے ہیں۔
پاکستان کا دفاعی عزم اور امن کی وابستگی
محمد جواد اجمل نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اپنے عوام اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے تنازعات کے پرامن حل اور اقوامِ متحدہ کے منشور پر پاکستان کی پختہ پاسداری کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے مئی 2025 میں بھارت کے فوجی ’آپریشن سندور‘ اور اس کے جواب میں پاکستان کے مؤثر اور منہ توڑ فوجی ردِعمل کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری ان تمام واقعات اور پاکستان کے بھرپور جواب کی گواہ ہے، اس لیے انہیں ان تفاصیل کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ اور بھارتی استخباراتی ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کے اندر تخریب کاری کی پشت پناہی ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے بھارتی ریاستی دہشتگردی کا دائرہ کار صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ مغرب میں سکھ راہنماؤں کو ہدف بنانے کے واقعات نے بھارت کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔
مئی 2025 میں بھی بھارتی فوجی مہم جوئی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی و زمینی حددو کی حفاظت کرتے ہوئے بھارت کو فوراً اور دوٹوک جواب دیا تھا، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا۔
عالمی فورم پر پاکستان کا یہ دوٹوک اور جارحانہ سفارتی موقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اب بھارت کے دہرے معیار کو عالمی برادری کے سامنے ننگا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک طرف بھارت مغرب میں جمہوریت کا ڈھونگ رچاتا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ممالک میں پراکسیز اور مغربی ممالک میں ٹارگٹ کلنگز جیسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت پرامن حل کی وابستگی کے ساتھ اپنے دفاع کا عزم یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان امن کا داعی ضرور ہے، لیکن اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اگر عالمی برادری نے بھارت کی اس ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا فوری نوٹس نہ لیا تو خطے کا امن شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔