افغان عوام کو گمراہ کرنے اور اپنی سفارتی و معاشی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے طالبان رجیم کی جانب سے مسلسل دیے جانے والے کھوکھلے دعووں کا ایک اور بھیانک ڈرامہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
عالمی تحقیقی و خبر رساں ادارے ’ریڈیو فری یورپ‘ نے طالبان رجیم کے نام نہاد ’واخان منصوبے‘ کو مکمل طور پر ناقابلِ عمل، سیاسی شوشہ اور عوامی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔
4 اکتوبر کا نمائشی افتتاح اور زمینی حقیقت
رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم نے 4 اکتوبر کو واخان سڑک کے ایک حصے کا انتہائی دھوم دھام سے افتتاح کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ چین کے ساتھ براہِ راست تجارتی راستہ کھول رہے ہیں۔
تاہم عالمی اور چینی ماہرینِ معیشت و دفاع نے طالبان کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک “نمائشی اور علامتی ڈرامہ” قرار دیا ہے۔
چینی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں افغان سرحد کے کھلنے یا وہاں سے کسی قسم کی باضابطہ تجارت شروع ہونے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں۔
جغرافیا کی لاعلمی یا سستی پوائنٹ اسکورنگ؟
طالبان حکومت کی شدید نااہلی کا عالم یہ ہے کہ جس درے کو عظیم تجارتی شہ رگ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ سمندر کی سطح سے 4,800 میٹر (تقریباً 15,700 فٹ) کی انتہائی دشوار گزار بلندی پر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کا دہشتگرد نیٹ ورک انٹیلی جنس رپورٹ میں بے نقاب


