بھارتی خفیہ ایجنسی را، طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) اور طالبان قیادت پر مشتمل نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا ہے۔
افغان انٹرنیشنل نے ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک 2025 میں قائم ہوا، جبکہ طالبان انٹیلی جنس نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط قائم کیے۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق قندھار کے گورنر ملا شیریں نے القاعدہ اور فتنہ الخوارج (گل بہادر گروپ) کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں دہشتگردی کے لیے بی ایل اے کی مدد کا کہا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں جی ڈی آئی نے 3 اجلاس منعقد کیے اور پاکستان میں دہشتگردی کے لیے فتنہ الہندوستان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق قندھار میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے کمپاؤنڈ میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں بی ایل اے نے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے جماعت الاحرار کو 3.5 ملین افغانی دیے۔
رپورٹ کے مطابق تیسرا اجلاس افغانستان سے باہر را اور جی ڈی آئی کے درمیان ہوا، جس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی جانب سے بلوچستان میں مشترکہ کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا۔
را کی جانب سے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کرنے کا انکشاف
دستاویز میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں کارروائیوں کے لیے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے باعث افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں 26 اگست کو قندھار میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ کی شرکت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق افغان طالبان نے بی ایل اے کو یقین دہانی کرائی کہ فتنہ الخوارج اور القاعدہ بلوچستان میں افرادی قوت، ہتھیاروں اور لاجسٹکس کے حوالے سے مدد فراہم کریں گے۔
افغان انٹرنیشنل کی رپورٹ میں طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کی جانب سے فتنہ الہندوستان کو طالبان رجیم کی طرف سے اسلحہ فراہم کرنے کے لیے لکھے گئے خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ کے خط میں کلاشنکوف رائفلز، راکٹ لانچرز اور گولہ بارود کی منتقلی اور حوالگی کی ہدایات دی گئی تھیں۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق ٹی ٹی پی کے سابق رکن ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے کو افرادی قوت، اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں زیادہ تر حملے فتنہ الخوارج اور القاعدہ کرتی ہے، جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری فتنہ الہندوستان قبول کرتی ہے۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق دہشتگرد نیٹ ورکس کے مشترکہ انتظام کا مقصد امریکی پابندیوں کی زد میں موجود دہشتگرد تنظیم القاعدہ کی شمولیت کو چھپانا ہے۔
زیارت حملے سے متعلق انکشاف
افغان انٹرنیشنل نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 4 ستمبر کے زیارت حملے کو فتنہ الخوارج نے انجام دیا، جبکہ عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے اس کی ذمہ داری فتنہ الہندوستان نے قبول کی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھارتی را طالبان رجیم کے ساتھ افغان سرزمین کو دہشتگردوں کی تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان رجیم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل دہشتگردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، جبکہ موجودہ صورتحال دہشتگردی کو پورے خطے تک پھیلا سکتی ہے۔