سانحہ پشاور کی تفتیش کے لیے قائم کی جانے والی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی مکمل رپورٹ کمشنر پشاور کے سپرد کر دی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں صوبے کے تعلیمی اداروں کی حفاظتی حالت، پی ٹی آئی دور کی پالیسیوں اور نجی سکولوں کے لیے معائنے کے نظام کی عدم موجودگی سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ سکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے جائے حادثہ اور ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں سے ملاقات کی اور شواہد اکٹھے کیے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے نجی سکول کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کی جائے۔
واضح رہے کہ اس متاثرہ سکول کی رجسٹریشن رواں سال 2026ء میں ہی عمل میں آئی تھی اور اس میں 380 طلبا و طالبات زیرِ تعلیم تھے۔
پی ایس آر اے سے اختیار کی واپسی کا انکشاف
تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں کسی بھی ادارے کے پاس سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی فنی انسپکشن کرنے یاانہیں غیر محفوظ قرار دے کر سیل کرنے کا قانونی اختیار موجود ہی نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ‘پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی’ (PSRA) سے نجی سکولوں کی عمارتوں کو سیل اور انسپکٹ کرنے کا یہ بنیادی اختیار واپس لے لیا گیا تھا جس کے باعث نجی تعلیمی اداروں کے لیے حفاظتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔
12 ہزار سکولوں کی عمارتیں مخدوش
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت 12 ہزار سے زائد سکولوں کی عمارتیں انتہائی مخدوش حالت میں ہیں۔
پشاور شہر کے اندر مزید 3 سکولوں کی عمارتیں اس قدر خستہ حال ہیں کہ وہ کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
حکومتِ خیبرپختونخوا کا ہنگامی فیصلہ
اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے صوبے بھر کے تمام نجی سکولوں کی عمارتوں کے فوری معائنے اور حفاظتی جائزے کے لیے خصوصی معائنہ کمیٹیاں (Inspection Committees) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ تمام اداروں کی فنی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی دلخراش واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔