پاکستانی سرمایہ کاروں اور جنوبی کوریا کی بڑی کمپنیوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت مشرق وسطیٰ میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات سامنے آئے ہیں۔
دبئی میں پاکستانی کاروباری شخصیت ملک منیر اعوان اور عرب افریقی اعلیٰ اقتصادی کونسل کے اول نائب صدر سفیر یاسر البخشوان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں پاکستان، مصر اور دیگر عرب ممالک میں مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصری اخبارات الجمہوریہ اور اخبار الیوم کے مطابق سفیر یاسر البخشوان نے بتایا کہ پاکستانی سرمایہ کار گروپ جنوبی کوریا کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مصر ترجیحی مرکز
مجوزہ منصوبے میں مصر کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مصر میں لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
مصر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع کو اس منصوبے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
چار اہم شعبے
مجوزہ سرمایہ کاری میں زراعت، نقل و حمل، رسد کی خدمات، جائیدادوں کی ترقی اور سیاحت جیسے شعبوں کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔
جائیدادوں کی ترقی اور سیاحت بھی مجوزہ سرمایہ کاری کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔
ان شعبوں میں عملی پیش رفت کے لیے سرمایہ کاروں، متعلقہ اداروں اور میزبان ممالک کے درمیان مزید مشاورت درکار ہوگی۔
دبئی میں اہم ملاقات
سفیر یاسر البخشوان نے ملک منیر اعوان کے ساتھ دبئی میں ہونے والی ملاقات کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔
ملاقات میں مستقبل کی اسٹریٹجک شراکت داری، سرمایہ کاری کے انتظامات اور عرب و پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور مختلف اقتصادی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ جنوبی کوریا کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو اس مجوزہ منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں عرب سرمایہ کاری
سفیر یاسر البخشوان کے مطابق عرب افریقی اعلیٰ اقتصادی کونسل کی حکمت عملی میں پاکستان کے اندر عرب سرمایہ کاری لانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو وسعت دینا ہے۔
پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات کے ساتھ مصر سمیت عرب منڈیوں میں پاکستانی اور جنوبی کوریائی سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری مواقع تلاش کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
معاہدوں پر پیش رفت اہم ہوگی
مصری اخبارات نے اس پیش رفت کو پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مجوزہ منصوبوں پر عملی پیش رفت کی صورت میں مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے کاروباری امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
فی الحال دبئی میں ہونے والی ملاقات کو ممکنہ اقتصادی تعاون کی جانب ایک اہم رابطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار باضابطہ معاہدوں، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور متعلقہ منصوبوں کے عملی آغاز پر ہوگا۔