عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کی تجویز کو سراہتے ہوئے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
شائع ہونے والی رپورٹ میں انتظامی اکائیوں کی تعداد 16، 23 سے 25 یا 32 سے زائد کرنے کے مختلف ممکنہ ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 1951 کے بعد سات گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے جبکہ ملک اب بھی چار بڑے صوبوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو سے حکومتی کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
آبادی میں اضافہ اور انتظامی ڈھانچہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس تبدیلی کے باوجود ملک کا بنیادی صوبائی انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے۔
آبادی میں اضافے کے ساتھ شہری سہولتوں، سرکاری خدمات اور انتظامی ضروریات پر دباؤ بڑھا ہے۔ بڑے صوبوں کے مختلف علاقوں کی ضروریات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ انتظامی حدود کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انتظامی اکائیوں کی تشکیل نو سے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
16 انتظامی اکائیوں کا ماڈل
رپورٹ میں پاکستان کے لیے ایک ممکنہ ماڈل 16 انتظامی اکائیوں کے قیام کا بیان کیا گیا ہے۔ اس تصور کے تحت موجودہ چاروں صوبوں کو چار چار حصوں میں تقسیم کرنے کا امکان سامنے آتا ہے۔
اس طریقے سے صوبائی انتظامیہ کا دائرہ نسبتاً محدود ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اس ماڈل پر عمل درآمد کے لیے نئی انتظامی حدود کا تعین کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ سرکاری محکموں، مالی وسائل اور اختیارات کی تقسیم کا طریقہ بھی وضع کرنا پڑے گا۔
23 سے 25 اکائیوں کی تجویز
رپورٹ میں انتظامی اکائیوں کی تعداد 23 سے 25 تک بڑھانے کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں آبادی، جغرافیائی ضروریات اور انتظامی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید اکائیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں۔
اس تصور کے تحت مختلف علاقوں کو انتظامی مرکز کے قریب لانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے مقامی سطح پر مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اس طرح کی تقسیم کے لیے واضح معیار طے کرنا ضروری ہوگا۔ آبادی کے علاوہ رقبے، معاشی سرگرمیوں، موجودہ انتظامی ڈھانچے اور مقامی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
32 سے زائد اکائیوں کا امکان
رپورٹ میں 32 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کرنے کے امکان پر بھی بات کی گئی ہے۔ اس تصور میں موجودہ انتظامی ڈویژنوں کو بنیاد بنا کر زیادہ چھوٹی اکائیاں تشکیل دینے کا راستہ زیر بحث آتا ہے۔
اس ماڈل کا بنیادی تصور انتظامی اختیارات کو عوام کے زیادہ قریب لانا ہے۔ چھوٹی اکائیوں میں مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور سرکاری خدمات کی نگرانی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کرنے سے سرکاری اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ نئی انتظامیہ، دفاتر، عملے اور بنیادی ڈھانچے کے لیے اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے۔
اس لیے انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے مالی استعداد اور ادارہ جاتی صلاحیت کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ رپورٹ میں بھی انتظامی اصلاحات کو مالی وسائل اور مؤثر حکمرانی سے جوڑنے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
پنجاب اور بلوچستان کی آبادی کا فرق
رپورٹ میں پاکستان کے صوبوں کے درمیان آبادی کے نمایاں فرق کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ بتائی گئی ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کم بیان کی گئی ہے۔
یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ صوبوں کی انتظامی ضروریات یکساں نہیں ہیں۔ زیادہ آبادی والے علاقوں میں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولتوں کی ضروریات زیادہ وسیع ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب بڑے رقبے اور نسبتاً کم آبادی والے علاقوں میں فاصلے، مواصلاتی رابطے اور سرکاری خدمات کی فراہمی الگ نوعیت کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے انتظامی حدود کی تشکیل میں صرف آبادی کو واحد معیار نہیں بنایا جاسکتا۔
مالی وسائل اور ٹیکس وصولی کا مسئلہ
رپورٹ میں صوبائی مالی وسائل اور ٹیکس وصولی کی صورت حال کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران صوبائی ٹیکسوں سے 983 ارب روپے جمع ہوئے جو مجموعی قومی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم تھے۔
رپورٹ میں زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی اور صوبائی محصولات کے نظام میں موجود خامیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ٹیکس معلومات کی کمی، کمزور نفاذ اور انتظامی صلاحیت کے مسائل محصولات میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی صورت میں مالی وسائل کی تقسیم ایک اہم سوال ہوگا۔ ہر اکائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن کے ذرائع اور وفاقی و صوبائی وسائل کی تقسیم کا واضح نظام درکار ہوگا۔
اگر نئی اکائیاں مالی طور پر مستحکم نہ ہوں تو ان کے قیام سے انتظامی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے اصلاحات کے ساتھ محصولات بڑھانے اور مالی نظم و ضبط بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
دوسرے ممالک کے تجربات
رپورٹ میں کینیا، انڈونیشیا اور نائجیریا سمیت مختلف ممالک کے انتظامی تجربات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ان ممالک نے مختلف ادوار میں اپنے انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کیں۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے کے نتائج ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتے۔ کامیابی کا انحصار اختیارات کی تقسیم، مالی وسائل، اداروں کی صلاحیت اور جواب دہی کے نظام پر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں لبنان کی مثال بھی زیر بحث آئی ہے۔ اس سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ مالی اور انتظامی صلاحیت کے بغیر چھوٹی اکائیوں کی تعداد بڑھانا مؤثر حکمرانی کے لیے کافی نہیں۔
کیا نئے صوبوں کا فیصلہ ہوگیا؟
رپورٹ میں نئے صوبوں کے قیام کا کوئی حتمی فیصلہ یا سرکاری نقشہ پیش نہیں کیا گیا۔ اس میں انتظامی اصلاحات کے مختلف ممکنہ ماڈلز کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی، آئینی، انتظامی اور مالی پہلو رکھتا ہے۔ کسی نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی تقاضوں اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔