رپورٹ کے مطابق ہر رکن ملک کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر تک فنڈز فراہم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
یہ رقم فٹبال کی ترقی کے لیے دستیاب مالی وسائل میں اضافے کا حصہ ہوگی۔ تاہم ہر ملک کو ملنے والی حتمی رقم اور فنڈز کی تقسیم کا طریقہ کار منظوری کے بعد واضح ہوگا۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے کہا ہے کہ تنظیم کے فنڈز اس کے 211 رکن ممالک کی ملکیت ہیں۔
ان کے مطابق گزشتہ دس برس میں فی رکن ملک فنڈنگ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
خواتین اور نوجوانوں پر توجہ
مجوزہ فنڈنگ منصوبے میں خواتین اور نوجوانوں کے فٹبال کو ترجیح دینے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے ساتھ کھیل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بھی توجہ دی جائے گی۔
فنڈز کے ذریعے مختلف ممالک میں فٹبال کی ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا امکان ہے۔
تاہم پاکستان میں ان وسائل سے کن مخصوص منصوبوں کو فائدہ پہنچے گا، اس بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پاکستان کے لیے یہ منصوبہ فٹبال کے بنیادی ڈھانچے، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور خواتین کے کھیل کو فروغ دینے کے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔ ان امکانات کا عملی فائدہ فنڈز کی حتمی تقسیم اور منصوبوں کے انتخاب پر منحصر ہوگا۔
ہنگامی ذخائر بھی برقرار رکھنے کی تجویز
فیفا نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے ذخائر برقرار رکھنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد غیر معمولی حالات میں تنظیم کے مالی وسائل کو محفوظ رکھنا ہے۔
نئے ترقیاتی منصوبے اور ہنگامی ذخائر سے متعلق تجاویز پر حتمی فیصلہ فیفا کے متعلقہ فورمز پر ہونا باقی ہے۔ دسمبر 2026 میں فیفا کونسل کا اجلاس اس عمل میں اہم مرحلہ ہوگا۔
متنازع منصوبہ واپس
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے متنازع فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبے میں ہونے والی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ منصوبہ مستقل طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنازع منصوبہ کسی بھی شکل میں دوبارہ پیش نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیفا ترقیاتی فنڈز میں اضافے کی نئی تجویز پر کام کررہی ہے۔
گورننس اور تادیبی قوانین کا جائزہ
فیفا کونسل نے تنظیمی گورننس میں ممکنہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تنظیم کے انتظامی طریقہ کار میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
فیفا کونسل نے فیفا پیس پرائز سے متعلق معاملہ بھی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔ اس بارے میں فیصلہ دسمبر کے اجلاس میں متوقع ہے۔
اس کے علاوہ کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی فٹبالر فولارین بالوگن کی ایک میچ کی معطلی مشروط طور پر مؤخر کیے جانے کے بعد یہ معاملہ زیر غور آیا۔
فیفا کی قانونی کمیٹی دسمبر میں ہونے والے کونسل اجلاس میں تادیبی طریقہ کار سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔
اس کے بعد ان قوانین میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آسکے گی۔
مجموعی طور پر فیفا کا مجوزہ منصوبہ عالمی سطح پر فٹبال کی ترقی کے لیے مالی معاونت بڑھانے کی کوشش ہے۔
پاکستان سمیت رکن ممالک کے لیے اس کے فوائد کا انحصار حتمی منظوری، فنڈز کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔