اندھیروں سے امید کا سفر! شیخوپورہ کا معذور نوجوان محمد عرفان، تعلیم، چھت اور باعزت زندگی کے لیے حکومتی امداد کا منتظر

اندھیروں سے امید کا سفر! شیخوپورہ کا معذور نوجوان محمد عرفان، تعلیم، چھت اور باعزت زندگی کے لیے حکومتی امداد کا منتظر

(وسیم ہاشمی ) :  والد کا سایہ اٹھنے کا غم، اپنوں کی سرد مہری اور بے سروسامانی کا عالم ، یہ وہ سخت امتحان تھے جو کسی بھی عام انسان کی ہمت توڑنے کے لیے کافی تھے، لیکن شیخوپورہ کے معذور نوجوان محمد عرفان نے ان تمام دشواریوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا،  ایف اے تک تعلیم حاصل کرنے والے اس باہمت اور باصلاحیت نوجوان نے ناپائیدار حالات کے باوجود اپنے اندر کے فنکار کو زندہ رکھا اور ایک بہترین گلوکار و لکھاری کے طور پر ابھرا۔

اس خصوصی صلاحیتوں کے حامل نوجوان محمد عرفان کی زندگی مشکلات، محرومیوں اور امید کے درمیان جاری ایک ایسی جدوجہد ہے جو معاشرے کی توجہ اور احساس کی متقاضی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد گھریلو حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا ،  آج وہ راولپنڈی میں رہائش، تعلیم اور باعزت زندگی کے لیے مدد کے منتظر ہیں۔

محمد عرفان بتاتے ہیں کہ جب وہ شیخوپورہ سے گھر چھوڑ کر نکلے تو انہیں مستقبل کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، والد دنیا سے رخصت ہو چکے تھے، وہ خود جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور جن لوگوں سے انہیں سہارا ملنے کی امید تھی، حالات نے انہیں بھی دور کر دیا۔

ان کے مطابق والد کی زندگی میں بھائی ان کی دیکھ بھال کرتے تھے، لیکن بھائیوں کی شادیوں کے بعد گھریلو ماحول تبدیل ہو گیا،  انہیں محسوس ہونے لگا کہ گھر میں ان کی موجودگی پسند نہیں کی جا رہی  بالآخر انہوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا،  اس وقت وہ شدید مایوسی کا شکار تھے اور زندگی ختم کرنے کے خیالات بھی ان کے ذہن میں آنے لگے تھے۔

 پیرودھائی اڈے پر رات گزارنے کے لیے بھی پیسے نہ تھے

گھر سے نکلنے کے بعد محمد عرفان مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے، جہاں ایک شخص نے انہیں بتایا کہ ہوٹلوں اور سراؤں کے اخراجات زیادہ ہیں، اس لیے وہ راولپنڈی چلے جائیں ، یوں وہ پیرودھائی کے علاقے میں پہنچ گئے، جہاں ان کے لیے رات گزارنے کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔

محمد عرفان کے مطابق اڈے پر ایک چارپائی کا کرایہ 200 روپے بتایا گیا، مگر وہاں واش روم اور غسل کی سہولت موجود نہیں تھی ،  قریب موجود ایک شخص نے انہیں ایک ہوٹل کے بارے میں بتایا جہاں 500 روپے میں رات گزارنے کے ساتھ بنیادی سہولیات بھی میسر تھیں ، اس کے پاس رقم انتہائی محدود تھی۔ بڑی مشکل سے 500 روپے کا بندوبست کیا اور ہوٹل میں قیام کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت انہیں احساس ہوا کہ بے گھر انسان کے لیے محض رات گزارنے کی جگہ حاصل کرنا بھی کس قدر مشکل ہو سکتا ہے۔

معذوری ان کی صلاحیتوں کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکی

محمد عرفان جسمانی معذوری کے باوجود کئی غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں ، وہ ایف اے پاس ہیں، لکھاری ہیں، گلوکاری کا شوق رکھتے ہیں اور اپنے فن کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، ان  کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی صلاحیتیں عطا کی ہیں کہ وہ آرمی پش اپس بھی لگا سکتے ہیں اور ان کے چلنے کا انداز بھی بظاہر ان کی معذوری کا اندازہ نہیں ہونے دیتا۔

محمد عرفان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خودمختار اور باعزت زندگی کی طرف بڑھنے کا راستہ ہے۔

 ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے امید، وزیراعظم ہاؤس سے مایوسی

محمد عرفان بتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی، جہاں ان کی بات توجہ سے سنی گئی اور مدد کی امید دلائی گئی ، انہیں اپنی ایف اے کی سند پیش کرنے کے لیے کہا گیا تاہم، جب وہ سند لے کر دوبارہ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ڈپٹی کمشنر عمرے کے لیے جا چکے ہیں، ان کی ملاقات ڈپٹی کمشنر کے پی اے سے ہوئی، جس نے بھی مدد کی یقین دہانی کرائی۔

بعدازاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مدد کی امید وابستہ کی اور وزیراعظم ہاؤس کے گیٹ تک پہنچے مگر وہاں انہیں اندر جانے کی اجازت نہ ملی اور ان کی جیب میں صرف 50 روپے ڈال دیے گئے ،  اس تجربے نے انہیں خآصا دلبرداشتہ کردیا ۔ 

محمد عرفان کہتے ہیں کہ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی کہانی صحافیوں اور میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں، کیونکہ ملک میں ایسے مخیر حضرات اور ادارے موجود ہیں جو ضرورت مندوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

 دکھوں کو گیتوں میں ڈھالنے والا نوجوان

محمد عرفان کے مطابق، انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف کٹھن مراحل میں تین گانے لکھے اور گائے ، جب وہ گھر چھوڑ کر نکلے، دوسرا ایف اے کا امتحان پاس کرنے پر، جبکہ تیسرا ان دوستوں کی بے وفائی میں جو مشکل وقت میں ساتھ دینے کے دعوے کرتے تھے، مگر وقت آنے پر انہیں تنہا چھوڑ گئے۔

ان کے یہ گیت ان کی زندگی کے نشیب و فراز، جذبات اور اندرونی کرب کی عکاسی کرتے ہیں ،  وہ اپنی محرومیوں کو فن کے ذریعے بیان کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی آواز کسی ایسے شخص تک پہنچے گی جو ان کے لیے آسانی پیدا کر سکے۔

حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل: چھت اور تعلیم کا بندوبست کر دیا جائے

محمد عرفان نے حکومت پاکستان، اسلام آباد انتظامیہ، وزارت داخلہ، پاکستان بیت المال اور فلاحی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے ،ان کاکہنا ہے کہ انہیں کسی بڑی آسائش کی خواہش نہیں ، ان کی بنیادی ضرورت ایک محفوظ رہائش، تعلیم جاری رکھنے کا موقع اور ایسی مدد ہے جس سے وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

محمد عرفان کے مطابق، زندگی کی مشکلات اور اذیتوں کا سفر ابھی جاری ہے ،  وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کا امتحان آسان ہو اور انہیں ایک بہتر زندگی نصیب ہو۔

محمد عرفان کی کہانی صرف ایک معذور نوجوان کی بے گھری اور محرومی کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ معاشرے میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل ایسے افراد کے لیے عملی سہارا کہاں ہے جو تعلیم، ہنر اور آگے بڑھنے کا عزم رکھنے کے باوجود بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ، ان کے لیے ایک چھت، تعلیم کا موقع اور باعزت زندگی کی راہ ہموار کرنا محض مالی امداد نہیں، بلکہ ایک انسان کو دوبارہ امید کے ساتھ جینے کا موقع دینا ہے۔

editor

Related Articles