صدیوں پہلے روبوٹ بنانے والا مسلمان سائنس دان،جسے دنیا بھول گئی

صدیوں پہلے روبوٹ بنانے والا مسلمان سائنس دان،جسے دنیا بھول گئی

اسلامی تاریخ میں ایسے کئی سائنس دان گزرے ہیں جن کی ایجادات نے دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ انہی میں ایک نمایاں نام اسماعیل الجزری کا ہے، جو بارہویں اور تیرہویں صدی میں اپنی غیر معمولی انجینئرنگ صلاحیتوں کے باعث مشہور ہوئے۔ انہیں خودکار مشینوں اور مکینیکل انجینئرنگ کی تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

الجزری 1136 میں پیدا ہوئے اور 1206 میں انہوں نے اپنی تحقیق اور ایجادات کو ایک کتاب میں مرتب کیا، جس کا نام کتاب فی معرفۃ الحیل الہندسیہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے 50 سے زائد مکینیکل آلات اور خودکار نظاموں کی وضاحت کی، جن کے ساتھ ان کی تیاری اور جوڑنے کے طریقے بھی بیان کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :کیا آکٹوپس خلائی مخلوق ہیں؟ سائنس کا متنازع نظریہ سامنے آگیا

ان کی مشہور ایجادات میں پانی سے چلنے والی ایک خودکار کشتی شامل تھی، جس میں 4 میکانکی موسیقار موسیقی بجاتے تھے۔ اس نظام میں ڈھول بجانے کی ترتیب تبدیل کرکے موسیقی کی لے بدلی جا سکتی تھی۔ یہ طریقہ قابلِ ترتیب خودکار نظاموں کی ابتدائی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔

الجزری نے گیئرز اور کرینک میکانزم جیسے نظاموں کو بھی بہتر بنایا۔ کرینک میکانزم گھومنے والی حرکت کو آگے پیچھے ہونے والی حرکت میں تبدیل کر سکتا ہے، جو کئی جدید مشینوں اور انجنوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خوفناک مناظر، عمارت سے لٹکتی بچی کو بچالیا گیا

ان کی ایک اور مشہور تخلیق ہاتھی کی گھڑی تھی۔ یہ پانی سے چلنے والی پیچیدہ گھڑی تھی، جس میں گیئرز، دھاتی گیندوں اور حرکت کرنے والے مجسموں کی مدد سے وقت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ یہ ایجاد اس دور کی انجینئرنگ مہارت کی نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔

الجزری نے روزمرہ استعمال کے لیے خودکار آلات بھی تیار کیے، جن میں ہاتھ دھونے کے لیے خودکار نظام اور مشروب پیش کرنے والی مشین شامل تھیں۔ ان کے کام میں صرف خیالات پیش نہیں کیے گئے بلکہ آلات کی تیاری اور ان کی ساخت کے بارے میں تفصیلی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔

الجزری کی تحریروں اور ایجادات نے خودکار مشینوں کی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا۔ ان کا کام اس بات کی مثال ہے کہ جدید روبوٹکس اور مکینیکل انجینئرنگ سے کئی صدیاں پہلے بھی مسلمان سائنس دان پیچیدہ مشینوں اور خودکار نظاموں پر تحقیق کر رہے تھے۔

editor

Related Articles