وزیراعظم کی معاشی نظم و ضبط کی پالیسیوں کو عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں اہم تائید ہوئی ہے جس کے مطابق پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا اور حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد ہو گئی۔
عالمی بینک نے محصولات میں اضافے، اخراجات پر قابو پانے، ریکارڈ بنیادی مالیاتی سرپلس اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کو پاکستان کی معاشی پیش رفت کے اہم عوامل قرار دیا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اختیار کی گئی مستحکم معاشی پالیسیوں نے معیشت کو سنبھالا دینے اور ترقی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔ مالی سال 2026 میں بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، جبکہ ترسیلات زر میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بڑھانے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی بہتری کو دو بڑے بین الاقوامی ریٹنگ اداروں، ایس اینڈ پی اور موڈیز، کی جانب سے درجہ بندی میں بہتری کی صورت میں بھی تسلیم کیا گیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان عالمی قرض مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہوا اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے۔
عالمی بینک کے مطابق معاشی استحکام کی بحالی میں پیش رفت کے باوجود پاکستان کو تیز رفتار اور پائیدار ترقی کے لیے مزید ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، کاروباری ماحول کی بہتری، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور معیشت میں ریاستی کردار کم کرنے سے ترقی کے امکانات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان ساختی اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کرے تو طویل مدت میں معاشی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جبکہ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مؤثر اصلاحات کے ذریعے 2050 تک پاکستانیوں کی فی کس آمدن تین گنا ہو سکتی ہے۔