اب کوئی رعایت نہیں ملے گی! ایڈوائزری کونسل کا خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا دوٹوک اعلان

اب کوئی رعایت نہیں ملے گی! ایڈوائزری کونسل کا خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا دوٹوک اعلان

سینئر صحافی عرفان خان نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، تاہم بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مقامی کونسل ممبران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی ختم کرانے کے لیے مقامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دیں اور انہیں علاقے چھوڑنے پر آمادہ کریں، بصورت دیگر انہیں پناہ اور سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

آزاد پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان خان نے کہا کہ کونسل ممبران کو واضح کیا گیا ہے کہ ان کے علاقوں میں موجود دہشتگرد تنظیموں اور عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ تاہم کوئی بڑا آپریشن کرنے کے بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ان مقامات پر کارروائیاں کی جائیں گی جہاں دہشتگرد موجود ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کونسل ممبران سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ولیج کونسل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دیں اور مقامی طور پر ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے دہشتگردوں کو علاقے چھوڑنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ اگر کسی نے انہیں پناہ دے رکھی ہے یا سہولت فراہم کر رہا ہے تو اسے بھی دہشتگردوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے کہا جائے۔ ان کے مطابق، ایسا نہ کرنے والوں اور اپنے حجروں یا گھروں میں دہشتگردوں کو رہائش فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: اندھیروں سے روشنی تک! بلوچستان کا عرفان اللہ پنجاب کے دانش اسکول سے پڑھ کر سی ایس پی افسر بن گیا

عرفان خان نے کہا کہ دہشتگردوں کے علاقے چھوڑنے کے بعد وہاں ترقیاتی عمل شروع ہوگا، کیونکہ امن کے بغیر ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، جس سے ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر نہیں چاہتے کہ ان علاقوں میں معیاری تعلیم کے مواقع پیدا ہوں، تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، صحت کی سہولیات فراہم ہوں، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر آئے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ ان کے بقول، ان علاقوں کو پسماندہ رکھنے کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنا ہے تاکہ انہیں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی طرف مائل کیا جا سکے۔

سینئر صحافی نے کہا کہ ایک منظم نیٹ ورک اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان علاقوں میں ترقی کی راہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، انہیں روزگار کے مواقع میسر ہوں اور وہ بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہوں تو وہ دہشتگرد تنظیموں کا حصہ بننے کے بجائے تعلیم حاصل کرنے، ملازمت کرنے اور اپنا کاروبار شروع کرنے کو ترجیح دیں گے۔

عرفان خان نے مزید کہا کہ دہشتگردی اور خوف کی فضا میں سرکاری اہلکاروں کی آمد اور ترقیاتی سرگرمیوں کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، دہشتگرد عناصر سرکاری اہلکاروں کو اغوا کرتے، ان پر تشدد کرتے اور انہیں سرکاری اداروں سے وابستگی ختم کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی خاصہ دار فورس، لیویز، پولیس اور دیگر اداروں سے وابستہ اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں ملازمت چھوڑنے یا سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

عرفان خان نے مزید کہا کہ مقامی کونسل ممبران کو دہشتگردوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے کے لیے متحرک کرنے کا مقصد امن قائم کرنا اور ترقی و خوشحالی کے نئے دور کی راہ ہموار کرنا ہے۔

Related Articles