آبنائے ہرمز میں امریکی مشن ، سمندری راستے پر کس کا کنٹرول؟سینٹکام نے بڑا دعوی کر دیا

آبنائے ہرمز میں امریکی مشن ، سمندری راستے پر کس کا کنٹرول؟سینٹکام نے بڑا دعوی کر دیا

آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور عالمی تیل کی ترسیل کے معاملے پر امریکا نے اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

 امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے آبی گزرگاہ کا فضائی دورہ کیا اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے مشن میں مصروف امریکی اہلکاروں سے ملاقات کی۔

امریکی سینٹکام کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آبنائے ہرمز کا دورہ کیا۔ انہوں نے سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن میں شریک اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔

بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ

ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا خلیجی شراکت داروں اور عالمی جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ کھڑا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، سینٹکام نے بڑا دعویٰ کر دیا

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی یقینی بنانا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔ امریکی کمانڈر نے اس اہم سمندری راستے میں بحری آمدورفت کی آزادی کو بھی اہم قرار دیا۔

امریکی سینٹکام کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی افواج کی مدد سے 3 ہزار سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

سینٹکام نے مزید دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک کو 1 ارب 50 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل برآمد کرنے میں مدد فراہم کی گئی۔ امریکی ادارے کے مطابق اس عرصے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 95 فیصد سے زیادہ جہاز محفوظ رہے۔

عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات پہنچانے کے لیے یہ گزرگاہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کی جانب سے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی ، ایران

اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی فراہمی، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں بحری سلامتی سے متعلق ہر پیش رفت پر عالمی منڈیوں کی گہری نظر رہتی ہے۔

امریکی دعوے کی اہمیت

بارودی سرنگیں ہٹانے سے متعلق امریکی دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا تحفظ عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ان اقدامات کا مقصد تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔

 آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کی صورتحال نہ صرف امریکا اور خلیجی ممالک کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور تیل درآمد کرنے والے ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles