سوشل میڈیا پر معدنیات (مائنز اینڈ منرلز) کے شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق ایک نیا سیاسی و فکری معرکہ چھڑ گیا ہے، پی ٹی آئی حامیوں میں جاری اس بحث نے تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے اور دوہرے معیار کو آن لائن پلیٹ فارمز پر بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفين اور ڈیجیٹل ایکٹوسٹس کی جانب سے پی ٹی آئی کے پرانے اور موجودہ دعوؤں کے موازنے کی ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہو رہی ہیں،صارفین کا کہنا ہے کہ جب تحریک انصاف حکومت میں تھی تو معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے معاہدوں اور بیرونی کمپنیوں کی آمد کو قوم کے لیے ’تاریخی خوشخبری‘، ’معاشی انقلاب‘ اور ’عمران خان کا ماسٹر اسٹروک‘قرار دیا جاتا تھا۔
لیکن جیسے ہی حکومت ختم ہوئی، انہی منصوبوں اور اسی سرمایہ کاری کو اب سوشل میڈیا پر مائنز اینڈ منرلز کی چوری اور قومی وسائل کی لوٹ مار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،سوشل میڈیا صارفین نے پی ٹی آئی کے اس منافقانہ رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھااگر پی ٹی آئی دور میں یہ معاہدے قوم کے لیے خوشخبری اور معیشت کی بحالی کا ذریعہ تھے تو آج حکومت نہ ہونے پر یہی کام چوری کیسے بن گیا؟”
ایک اور معروف صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھاپی ٹی آئی کا اصول سادہ ہے اپنے دور کی ہر ڈیل خوشخبری اور دوسروں کے دور کی وہی ڈیل چوری منطق اور سچائی کا اس سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر عوام کی یادداشت کو کمزور سمجھنے کی غلط فہمی اب ختم ہو جانی چاہیے صارفین کے مطابق معدنیات جیسے قومی اثاثے پر پی ٹی آئی کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد معاشی بہتری نہیں بلکہ صرف اور صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ٹرولنگ ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے سابق رہنما اسد عمر نے بھی ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں سرمایہ کاری کو خوشخبری کہا جاتا تھا انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عمران خان سے بنی گالہ میں آسٹریلین سرمایہ ملا تھا اور کے پی کی معدنیات میں سرمایہ کاری کی بہت کوششیں ہوئی تھیں ۔