قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی، جبکہ ایوان میں کراچی کی لوڈشیڈنگ اور اہم قانونی مسودات پر بھی پُرجوش بحث کی گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ اس موقع پر ایوان میں کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ 80 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے جہاں ہزاروں افراد کو شہید کیا جا चुका ہے، جن میں تقریباً 7,000 کشمیری جیلوں میں لقمۂ اجل بنے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری اپنے حقِ خودارادیت کے مؤقف پر چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں سول سوسائٹی اور طلباء نے شرکت کی۔
کراچی میں کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس
اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید امین الحق نے کراچی میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جنہیں عوام نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ ادارہ ایک مافیا کی طرح کام کر رہا ہے۔
امین الحق نے سوال اٹھایا کہ اوور بلنگ کے ذریعے اربوں روپے کمانے کے باوجود کراچی کے بنیادی ڈھانچے اور جنریشن کے لیے کیا کام کیا گیا ہے جبکہ رات کے اوقات میں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجبوری کے تحت بعض اوقات مرمتی کاموں کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیپرا کے قواعد کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے اور اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ صنعتی فیڈرز کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے معاملے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسے متعلقہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
انسدادِ زنا بالجبر بل اور پارلیمانی کارروائی
اجلاس کے آخری مراحل میں پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن شاندانہ گلزار نے انسدادِ زنا بالجبر تفتیش اور سماعت مقدمہ بل 2024 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ وزارتِ قانون کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی اور مؤقف اپنایا گیا کہ نیشنل پولیس بیورو میں اس حوالے سے نظام پہلے سے موجود ہے اور جنسی جرائم سے متعلق تمام کیسز کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فعال ہے۔
بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اس بل کو مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا۔
موجودہ سیاسی اور پارلیمانی منظرنامے میں ایک طرف جہاں پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حقوق اور سفارتی مؤقف پر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، وہیں دوسری طرف عوامی مسائل جیسے کہ کراچی میں بجلی کا بحران ایوان کے اندر تپتے ہوئے مسائل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
کے الیکٹرک کے معاملات پر حکومت اور اتحادی جماعتوں کا آمنے سامنے آنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ شہری مسائل پر عوامی دباؤ بدستور برقرار ہے۔ اس کے علاوہ قانون سازی کے عمل میں حکومتی تحفظات اور اپوزیشن کی طرف سے بلوں کی پیشکش جمہوری عمل کی متحرک نوعیت کو ظاہر کرتی ہے، جو آنے والے دنوں میں پارلیمانی مباحثوں کو مزید تقویت دے گی۔