ہزاروں پینگوئنز کے درمیان رہنے، مفت کھانا کھانے اور رہائش حاصل کرنے کا موقع انٹارکٹیکا میں ایک ایسی منفرد ملازمت موجود ہے جو بظاہر خواب جیسی لگتی ہے، لیکن اس کے ساتھ سخت موسمی حالات اور کئی مشکل چیلنجز بھی جڑے ہیں۔
برطانیہ کے یو کے انٹارکٹک ہیریٹیج ٹرسٹ کی جانب سے انٹارکٹیکا کے دور افتادہ مقام پورٹ لاکروی میں ہر سال گرمیوں کے موسم کے لیے ایک چھوٹی ٹیم تعینات کی جاتی ہے۔ اس ٹیم کی ذمہ داریوں میں جنگلی حیات کی نگرانی، ماحول کا تحفظ اور تاریخی مقام کی دیکھ بھال شامل ہے۔
اس ملازمت کا ایک اہم حصہ جینٹو پینگوئنز کی کالونیوں کا مشاہدہ کرنا ہے۔ کارکن ان کے گھونسلوں، انڈوں اور بچوں سے متعلق معلومات جمع کرتے ہیں اور ان کی افزائش کے عمل کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔
مفت رہائش اور کھانا، لیکن زندگی آسان نہیں
اس ملازمت میں منتخب افراد کو تقریباً 5 ماہ انٹارکٹیکا میں گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ رہائش، کھانا اور سرد موسم میں استعمال ہونے والا 5صوصی سامان بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ تنخواہ اور دیگر شرائط کا انحصار متعلقہ بھرتی کے اشتہار پر ہوتا ہے۔
تاہم، اس ملازمت کی حقیقت صرف پینگوئنز کے ساتھ وقت گزارنے تک محدود نہیں۔ پورٹ لاکروی میں سہولتیں انتہائی محدود ہیں۔ وہاں بہتے پانی اور جدید فلش ٹوائلٹس جیسی عام سہولتیں دستیاب نہیں، جبکہ کارکنوں کو محدود جگہ میں رہنا پڑتا ہے۔
شدید سردی، دشوار گزار ماحول اور دنیا سے طویل عرصے تک محدود رابطہ بھی اس کام کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ کارکنوں کو نہ صرف جنگلی حیات کی نگرانی کرنا ہوتی ہے بلکہ سیاحوں کا استقبال کرنے اور دنیا کے جنوبی ترین پوسٹ آفسز میں شمار ہونے والے اس مقام کے ڈاک خانے کو چلانے کی ذمہ داری بھی نبھانا پڑتی ہے۔
دنیا بھر سے لوگ اس نوکری کے لیے درخواست کیوں دیتے ہیں؟
ان تمام مشکلات کے باوجود، یہ ملازمت ان لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے جو قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور منفرد مہم جوئی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہزاروں پینگوئنز کو ان کے قدرتی مسکن میں دیکھنا اور ان کے بارے میں عملی معلومات جمع کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جو عام ملازمتوں میں کم ہی ملتا ہے۔
اسی منفرد نوعیت کے باعث اس ملازمت کے لیے مقابلہ بھی سخت ہوتا ہے۔ تاہم، امیدواروں کے لیے صرف پینگوئنز سے محبت کافی نہیں، بلکہ انہیں محدود سہولتوں، سخت موسم اور مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے بھی تیار ہونا پڑتا ہے۔
یہ ملازمت جتنی دلکش دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی صبر، ہمت اور جسمانی و ذہنی برداشت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔