فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ عوامی سروے کے موضوع پر اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے شہریوں کی رائے شامل ہے جس میں پاکستان کے سفارتی کردار، مسلم دنیا میں اتحاد اور عالمی تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
سروے میں مختلف شہریوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ عالمی تنازعات کو محض دور سے دیکھنے والا ملک نہیں بلکہ مذاکرات رابطوں اور مفاہمت کے ذریعے ان کے حل میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب سمیت خطے کے اہم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے امکانات بڑھانے کی کوششیں اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسلام آباد میں سیاسی و سماجی امور سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں امن کے امکانات پر مرکوز ہے لاہور میں شہریوں کو کہنا ہے کہ مسلم دنیا کے اتحاد اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے فیلڈ مارشل اور موجودہ حکومت کا کردار قابل ستائش ہے کراچی میں شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان نے ہمیشہ لیڈنگ رول پلے کیا ہے اس وقت دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے مثبت کردار کی طرف لگی ہیں پاکستان نے امریکا اور ایران کو بھی ایک میز پر بٹھایا اور اب ایران اور سعودی عرب کے مابین مصالحت کرائی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ پشاور کے شہریوں نے کہا ہے کہ امن و سلامتی اور علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے فیلڈ مارشل اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کو ستائش کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نزدیک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے پاس علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو امن کے لیے بروئے کار لانے کا اہم موقع موجود ہے۔ سفارتی رابطوں کی کامیابی کا اصل مقصد کشیدگی میں کمی اختلافات کے حل اور پائیدار امن کے لیے عملی پیش رفت ہوتا ہے اور اس میں کامیابی ہوتی دکھائی دے رہی ہے
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے خراجِ تحسین کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور مفاہمت کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے استحکام تجارت اور مشترکہ مفادات کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
