پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے معدنیات کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری پر اعتراضات کے تناظر میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے عمران خان کے دورِ حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آمد اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی کوششوں کا حوالہ دے کر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسد عمر نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بننے کے بعد بنی گالا میں عمران خان کی موجودگی میں ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں آسٹریلیا سے ایک سرمایہ کار بھی شریک تھا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری لانے کے لیے بے تاب تھے۔
معدنیات پر دوہرا مؤقف؟
اسد عمر نے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو امریکی کمپنی ایکسن موبل (ExxonMobil) پاکستان میں سمندر کے اندر تیل و گیس کی تلاش کے لیے آف شور ڈرلنگ کر رہی تھی، جسے اس وقت ملک کے لیے خوشخبری قرار دیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو ملکی معیشت اور قدرتی وسائل کی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی سے سوال
اسد عمر کے بیان کی روشنی میں معدنی وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کر نے والی پی ٹی آئی کے مؤقف پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بیرونی سرمایہ کاری ملکی وسائل کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے تو عمران خان کے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا کے معدنی شعبے میں لانے کی کوششیں کیوں کی جا رہی تھیں؟
پی ٹی آئی نے 13 سالوں میں خیبر پختونخوا میں تباہی مچادی اور لوٹ مار کی جبکہ منشیات فروشی عام ہوئی اور دہشتگردی کی سہولت کاری کے باعث وہاں دہشتگردی بڑھی تاہم اب پی ٹی آئی معدنیات پر واویلا مچارہی ہے جبکہ خود پی ٹی آئی کا لیڈر اس دور میں معدنیات کے سودے کرتا رہا ہے ۔
