مودی کا مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ کہنا، 11 ہزار مسلم گھرانے مسمار، مساجد شہید، بھارت اقلیتوں کے لیے جنم بھومی کی بجائے ’جہنم بھومی‘ بن گیا

مودی کا مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ کہنا، 11 ہزار مسلم گھرانے مسمار، مساجد شہید، بھارت اقلیتوں کے لیے جنم بھومی کی بجائے ’جہنم بھومی‘ بن گیا

بھارتی ہندو انتہا پسند حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ کہنا تھا کہ آسام میں ہندو انتہا پسند مودی حکومت نے  1100 سے زیادہ مسلم خاندانوں کے گھروں اور مساجد کو مسمار کر دیا ہے۔

نریندر مودی سرکاری کی جانب سے اس مسماری نے انسانی حقوق کے بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں حکام اسے قانونی کارروائی اور متاثرین اسے امتیازی نشانہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے اضلاع ناگون، ہوجائی اور گولاگھاٹ میں نریندر مودی کی ایما پر حکام کی جانب سے ایک وسیع پیمانے پر انسدادِ تجاوزات کے نام پر اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے لیے بھارت کو جنم بھومی کی بجائے ’جہنم بھومی‘ بنا دیا گیا ہے، 1100 سے زیادہ مسلم خاندان کے گھر مسمار کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قربانیاں بھی، کامیابیاں بھی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 6 دہشت گردوں کی ہلاکت اور 2 جوانوں کی شہادت پر گورنر فیصل کریم کنڈی کا فورسزکو خراج تحسین

مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی سرکاری اراضی اور محفوظ جنگلات پر قائم غیر قانونی بستیوں کے خلاف کی گئی ہے۔

تاہم متاثرہ مکینوں اور کمیونٹی کے رہنماؤں نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ خاندان دہائیوں سے اس علاقے میں سکونت پذیر تھے۔

اس ہنگامہ خیز کارروائی کے دوران تقریباً 10 مقامی مساجد کو بھی شہید کر دیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس اور تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔

اس پورے تنازع کی جڑیں صرف انتظامی کارروائیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا تعلق براہ راست ملک کی اعلیٰ سطح کی ہندو انتہا پسند سیاسی کشمکش ہے۔

سال 2024 کے بھارتی عام انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف ’گھس بیٹھیے‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا۔

 اس سیاسی بیان بازی نے نہ صرف انتخابی ماحول کو گرما دیا بلکہ اپوزیشن جماعتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کو بھی دعوت دی، جس نے بعد میں زمینی سطح پر ایسی پالیسیوں کی راہ ہموار کی۔

اس دردناک منظرنامے کا ایک اور اہم پہلو بالی ووڈ کے نامور مسلم میگاسٹارز (جیسے ’تین خانز‘) کا کردار ہے، جنہیں سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے طویل عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ بااثر شخصیات سیاسی پس منظر میں ہونے والے اقدامات یا اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عموماً لب بستہ رہتی ہیں تاکہ ان کی فلمیں اور کیریئر کسی قسم کے سیاسی ردعمل یا نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔

ریاستی قوانین اور انسانی حقوق کی جنگ

جنگلات کی زمین کے تحفظ اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے نام پر چلنے والی یہ مہم کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے ملک کے مختلف حصوں میں ہیوی مشینری کے ذریعے املاک کو مسمار کرنے کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:اقوام متحدہ دفتر کے باہر بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کا شدید احتجاج، حقِ خودارادیت اور عالمی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

سرکاری نمائندگان اصرار کرتے ہیں کہ قانون کو تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے اور اس میں کسی مذہب یا فرقے کی تفریق نہیں کی جاتی۔

اس کے برعکس، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل کو ’بلڈوزر جسٹس‘ کا نام دیا ہے، جو بغیر کسی قانونی چارہ جوئی، پیشگی نوٹس یا انصاف کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے صرف ایک مخصوص اقلیتی طبقے کو نشانہ بناتا ہے۔

اقتدار کی دوڑ اور قانون کی آڑ میں بدلتی ہوئی معاشرتی حقیقت

جب انتظامی فیصلے سیاسی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں، تو ریاست کی عملداری بظاہر قانون کے دائرے میں نظر آتی ہے لیکن اس کے معاشرتی اثرات گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔

اس طرح کے اقدامات محض زمینوں کو خالی کرانے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ اقلیتوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کرتے ہیں۔

جب اعلیٰ ایوانوں سے آنے والے بیانات زمینی سطح پر طاقت کے استعمال میں ڈھلتے ہیں، تو آئینی مساوات کے دعوے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

اس صورتحال میں قانونی جواز اور انسانی درد مندی کے درمیان حائل خلیج اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق اور سماجی ہم آہنگی کو بھی برقرار رکھا جائے، تاکہ معاشرے کا توازن بگڑنے سے بچ سکے۔

Related Articles