مذہبی حلقوں نے فضل الرحمان کو مذہب کا سوداگر قرار دے دیا، مدارس اور دفاتر کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی واگزار کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
Home - آزاد سیاست - مذہبی حلقوں نے فضل الرحمان کو مذہب کا سوداگر قرار دے دیا، مدارس اور دفاتر کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی واگزار کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
پشاور میں سرکاری اراضی پر مفتی محمود کے نام سے منسوب عمارت کی تعمیر کے معاملے پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور علمائے کرام نے مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرکاری زمین فوری خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دین، قرآن و سنت اور مدارس کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنی چاہیے اور سرکاری اراضی کے استعمال کے معاملے میں بھی قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور علمائے کرام نے اپنے ردعمل میں کہا کہ مذہبی شخصیات اور جماعتوں پر عوام کا اعتماد دینی تعلیمات کی پاسداری اور عملی کردار سے قائم ہوتا ہے۔ ان کے بقول، اگر کوئی سیاسی رہنما قرآن و سنت کی پیروی کے دعوے کرتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے معاملات میں بھی انہی اصولوں کی پابندی کرے۔
مذہبی حلقوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی سرگرمیوں اور اقتدار میں رہنے کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ بن کر وزارتیں اور اہم عہدے حاصل کیے جبکہ مدارس کے نام پر جمع ہونے والے وسائل اور ان کے استعمال سے متعلق بھی شفافیت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب کے نام پر عوام سے حمایت حاصل کرنے والے رہنماؤں کا احتساب بھی اسی معیار پر ہونا چاہیے جس کا مطالبہ وہ دوسروں سے کرتے ہیں۔
علمائے کرام اور دیگر نے مطالبہ کیا کہ پشاور میں سرکاری اراضی کے استعمال کے معاملے کی مکمل قانونی جانچ کی جائے اور اگر تعمیرات کا کوئی حصہ غیر قانونی ثابت ہو تو متعلقہ انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمین کسی بھی فرد، جماعت یا ادارے کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے اس کے استعمال کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
مذہبی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اگر متعلقہ عمارت یا اس کے کسی حصے کی تعمیر سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر کی گئی ہے تو زمین فوری طور پر خالی کرائی جائے اور غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ ان کے بقول، سرکاری اراضی کے تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری کے لیے ضروری ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی کو کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دینی تعلیمات کی تبلیغ کرنے والوں کی ذمہ داری عام سیاسی رہنماؤں سے بھی زیادہ ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے دیانت داری، قانون کی پاسداری اور انصاف کی مثال قائم کریں۔ ان کے مطابق، مذہبی اور سیاسی دعووں کی اصل قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب عملی اقدامات بھی ان دعووں سے مطابقت رکھتے ہوں۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مطالبہ کیا کہ پشاور میں سرکاری اراضی کے معاملے پر متعلقہ حکام قانونی حیثیت واضح کریں، زمین کے استعمال سے متعلق ریکارڈ سامنے لائیں اور کسی بھی غیر قانونی تعمیر کی صورت میں بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائیں۔