عہدہ نہ ملا تو ریاست ماں بھی بُری لگنے لگی، کلمے کے نام پر بنی ریاست پر فضل الرحمان کا ’تھو‘ کرپٹ ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت

عہدہ نہ ملا تو ریاست ماں بھی بُری لگنے لگی، کلمے کے نام پر بنی ریاست پر فضل الرحمان کا ’تھو‘ کرپٹ ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کے ریاست کو ماں سے تشبیہ دیتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کرنے پر ان کے رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن پر عوام شدید غم و غصہ میں آ گئے ہیں اور سوال اٹھا رہے کہ ماں تو ماں ہوتی ہے، وہ کچھ نہ دے تو کیا اس پر ’تھوکیں‘ گے، فضل الرحمان نے ذاتی مفاد کے لیے ماں جیسے مقدس رشتے کا تقدس بھی روند ڈالا ہے۔

فضل الرحمان نے بدھ کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، ’ایسی ماں پر ’تُھو‘ جو قوم کو کچھ نہ دے ‘۔ انہوں نے ریاست سے ماں جیسے طرزِ عمل کی توقع بھی ظاہر کی اور عہدے نہ ملنے پر ماں جیسی ریاست پر تھوک بھی دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے الفاظ پر ہونے والی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ریاستی فیصلوں سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس اختلاف کے اظہار میں ماں جیسے مقدس رشتے پر ’تھو‘ جیسی تحقیر آمیز زبان استعمال کرنا سیاسی گفتگو کے معیار اور مذہبی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مفتی محمود مرکز پر گرینڈ آپریشن کا خوف ، فضل الرحمان نے معصوم طالبعلموں کو تجاوزات کا چوکیدار بنا دیا

سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں میں’ماں تو ماں ہوتی ہے، جیسی بھی ہو‘ کو بنیادی دلیل بناتے ہوئے سوال کیا گیا ہے کہ کسی توقع کے پورا نہ ہونے سے کیا ماں کے احترام کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے؟ اسی تناظر میں ریاست سے شکوے کے اظہار کے لیے اختیار کیے گئے الفاظ کو نامناسب اور اخلاقی اعتبار سے قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہے۔

ریاستی نظام سے حاصل مواقع پر سوال

سوشل میڈیا پر یہ بحث زبان زدِ عام ہے اور ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ریاست سے شکایت کرنے والے فضل الرحمان کو اسی ریاستی نظام کے تحت حاصل ہونے والی پارلیمانی نمائندگی، سیاسی مواقع اور اہم عہدوں کے بارے میں بھی اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔

یہ سوال سیاسی جواب دہی کے ایک اہم پہلو کی نشان دہی کرتا ہے۔ جو قیادت طویل عرصے تک ملکی سیاست اور اقتدار کے عمل کا حصہ رہی ہو، اس سے ریاستی نظام کی ناکامیوں کے ساتھ اپنے فیصلوں، اتحادوں اور حکومتی کردار کی وضاحت بھی طلب کی جا سکتی ہے۔

تاہم پارلیمانی نمائندگی عوام کے ووٹ اور آئینی عمل سے حاصل ہوتی ہے۔ اسے کسی فرد پر احسان قرار دینے کے بجائے عوامی ذمہ داری سمجھنا ضروری ہے، اسی طرح ریاستی نظام میں شرکت کسی سیاسی رہنما کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے حق سے محروم نہیں کرتی لیکن ریاست پر تھوکنا کون سی سیاست اور حب الوطنی ہے؟۔

اقتدار سے محرومی کا الزام

تجزیہ کاروں کے مطابق فضل الرحمان اقتدار کی خواہش، گورنر ہاؤس میں پسندیدہ نمائندگی نہ ملنے اور نئے انتظام میں حصہ نہ ملنے کی ناراضی کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ اور یہ کہ سیاسی مفاد پورا نہ ہونے پر ریاست کے بارے میں زبان بدل گئی۔

فضل الرحمان کو سوشل میڈیا پر’مفاد پرستانہ سیاست‘، ’اخلاقی دیوالیہ پن‘ اور ذاتی مفادات کی خاطر اخلاقی حدود سے تجاوز قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس ریاستی نظام سے سیاسی مواقع حاصل کیے گئے، اسی کے خلاف تحقیر آمیز الفاظ اختیار کرنا قول و فعل کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمن کا حال بھی پی ٹی آئی جیسا ہوگا، ریاست مخالف بیان بازی پر کرک کے شہری پھٹ پڑے

سوشل میڈیا پر یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ایک مذہبی قیادت کہلانے والے شخص کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے اور اس کا دین کیا کہتا ہے کہ ’ماں کچھ نہ دے تو اس کے منہ پر تھوک‘ دو،  یہ سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا گیا ہے کہ ماں جیسے رشتے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے طلبہ اور نوجوانوں تک کیا پیغام پہنچتا ہے؟ کیا فضل الرحمان مدارس میں طلبہ کو بھی ماں کے تقدس کے بارے میں یہی درس دے رہے ہیں۔

صوبائی معاملات پر سیاسی اختلاف

دستیاب رپورٹ کے مطابق فضل الرحمان کی گفتگو خیبرپختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی، امن و امان اور معدنی وسائل سے متعلق ان کے اعتراضات کے تناظر میں ہوئی ہے۔

واضح ہوتا ہے کہ تنازع محض ایک لفظ تک محدود نہیں، اس کے پیچھے سیاسی اختیار، صوبائی انتظام اور ریاستی فیصلوں پر اختلاف بھی موجود ہے۔ تاہم ان اختلافات کی نوعیت متنازع الفاظ کے اخلاقی جائزے کو غیر متعلق نہیں بناتی ہے۔

سیاسی زبان، احترام اور جواب دہی

ریاست کو ماں کہنا تحفظ، وابستگی اور ذمہ داری کا استعارہ ہے۔ اسی لیے اس استعارے کے ساتھ تحقیر آمیز لفظ استعمال ہو تو ردعمل صرف سیاسی وابستگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ خاندانی اور معاشرتی اقدار سے بھی جڑ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:فضل الرحمن کا حال بھی پی ٹی آئی جیسا ہوگا، ریاست مخالف بیان بازی پر کرک کے شہری پھٹ پڑے

مذہبی شناخت رکھنے والی سیاسی قیادت کے الفاظ زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں، کیونکہ اس سے دلیل کے ساتھ شائستگی اور اخلاقی احتیاط کی توقع بھی وابستہ ہوتی ہے۔

سخت اعتراض واضح زبان میں پیش کیا جا سکتا ہے، مقدس رشتوں کو تنازع میں لانے سے اصل سیاسی سوال پس منظر میں جانے کا خدشہ بڑھتا ہے۔

ماں جیسی مقدس اور اس گود جو ایک پناہ گاہ ہوتی ہے، کے خلاف اس نوعیت کی تضحیک آمیز زبان استعمال کرنا نہ صرف ملکی آئین و قانون کی توہین ہے بلکہ یہ سیاسی رواداری کے خاتمے کا بھی اشارہ ہے۔

اس طرزِ عمل سے نئی نسل کو غلط پیغام جاتا ہے، جو کل کلاں کے رہنما بننے والے ہیں۔ ایک عوامی رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں ملکی سلامتی، بقا اور ریاست کے تقدس کو مقدم رکھے گا۔

ذاتی فرسٹریشن اور سیاسی ناکامیوں کا غصہ ریاستِ پاکستان پر نکالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مفاد پرستی کی اس سیاست کا کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں بچا۔

Related Articles