پینٹاگون نے چین کے پراسرار خلائی جہاز کی تصویر جاری کردی، مشن کیا ہے

پینٹاگون نے چین کے پراسرار خلائی جہاز کی تصویر جاری کردی، مشن کیا ہے

امریکا نے چین کے خفیہ خلائی پروگرام سے متعلق نئی تصویر جاری کردی، شین لونگ کی ساخت امریکی خلائی جہاز ایکس 37 بی سے ملتی جلتی ہے، تاہم اسے ہتھیاروں سے لیس ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خلائی خطرات سے متعلق نئی رپورٹ میں چین کے انتہائی خفیہ خلائی جہاز ’شین لونگ‘ کی واضح تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ بغیر پائلٹ کے چلنے والا پروں والا خلائی جہاز ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک زمین کے مدار میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی کمپنی وینٹور کی جانب سے حاصل کردہ تصویر میں شین لونگ کی ساخت امریکی اسپیس فورس کے خلائی جہاز ایکس 37 بی سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ اس میں کارگو بے کے دروازے بھی موجود ہیں، جن کے ذریعے سیٹلائٹس کو خلا میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مائیکروسافٹ کا نیا اے آئی نظام، تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نکل گیا

چین کے خفیہ خلائی جہاز کے کتنے مشن مکمل ہوئے؟

میڈیارپورٹ کے مطابق شین لونگ 2020 سے اب تک چار معلوم مداری مشن مکمل کرچکا ہے۔ اس کا تازہ ترین مشن فروری میں شروع ہوا، جبکہ اس نوعیت کی پروازیں کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہیں۔

تاہم، اس خلائی جہاز کے اصل مقاصد اور اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں مکمل تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

کیا شین لونگ خلا میں ہتھیار لے جاسکتا ہے؟

پینٹاگون کی رپورٹ میں چین کی جانب سے خلائی عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں ڈائریکٹڈ انرجی لیزرز جیسی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

تاہم، رپورٹ میں ایسا کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ شین لونگ خود ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اس لیے اس کے ممکنہ عسکری کردار اور حقیقی صلاحیتوں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

روس کے خلائی منصوبے پر بھی تشویش

رپورٹ میں روس کی جانب سے ایسے سیٹلائٹ کی تیاری کی کوششوں سے بھی خبردار کیا گیا ہے جسے جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے ڈیزائن کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

چین اور روس کے خلائی منصوبوں سے متعلق یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان خلا میں ٹیکنالوجی، نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کی دوڑ تیز ہورہی ہے۔

ماہرین کے لیے شین لونگ جیسے خفیہ خلائی جہازوں کی سرگرمیوں کو سمجھنا اس لیے اہم ہے کہ مستقبل میں خلا صرف سائنسی تحقیق کا میدان نہیں رہے گا بلکہ عالمی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی میں بھی اس کا کردار بڑھ سکتا ہے۔

editor

Related Articles