سرکاری ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز پر خاندانی شب خون؛ فضل الرحمٰن کے بھائی کا نام نہاد زہد و تقویٰ آڈٹ اعتراضات کی فائلوں میں دفن

سرکاری ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز پر خاندانی شب خون؛ فضل الرحمٰن کے بھائی کا نام نہاد زہد و تقویٰ آڈٹ اعتراضات کی فائلوں میں دفن

مذہب اور تقدس کا لبادہ اوڑھ کر معصوم عوام اور سادہ لوح مدارس کے بچوں کے جذبات سے کھیلنے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے پورے کرپشن نیٹ ورک کا ایک اور ہولناک مالیاتی اسکینڈل دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ طشت از بام ہو چکا ہے 

 آڈیٹر جنرل کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق، پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں جب مولانا فضل الرحمٰن نے اقتدار کی ہوس اور کالی کمائی چھپانے کے لیے اپنے سگے بھائی مولانا عطا الرحمٰن کو وفاقی وزیر برائے سیاحت کی کرسی پر بٹھایا، تو وہاں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قوانین اور ملکی خزانے کا ننگے بازار میں جنازہ نکال دیا گیا

سیاسی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپنے بھائی کی اس اندھیر نگری اور کھلم کھلا مالیاتی ڈاکے کے اصل سرغنہ اور سہولت کار خود مولانا فضل الرحمٰن ہیں، جنہوں نے ہمیشہ دین کو ایک منافع بخش کاروبار بنا کر ریاستِ پاکستان کو ذاتی اور خاندانی فائدے پہنچانے کے لیے استعمال کیا

یہ بھی پڑھیں:ڈی آئی خان سڑکوں کے منصوبے، فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کا اربوں روپے کا ایک اور کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا

آڈٹ دستاویزات کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن کی آشیرباد سے چلنے والی اس منسٹری میں قومی فنڈز اور سیاحتی پراجیکٹس کو جے یو آئی کے کارندوں اور من پسند نجی فرموں کو نوازنے کے لیے مالِ مفت کی طرح بہایا گیا

وزارتِ سیاحت میں کروڑوں روپے کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے دوران پیپرا (PPRA) کے شفاف ٹینڈرنگ کے عمل کو یکسر بائی پاس کیا گیا

قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری پراجیکٹ کے لیے اوپن مسابقتی عمل لازمی ہوتا ہے، لیکن مولانا عطا الرحمٰن نے اپنے بھائی کی ایما اور سیاسی دھونس کے بل بوتے پر تشہیر اور اوپن ٹینڈرز کے بغیر، پردے کے پیچھے خفیہ کوٹیشنز کے ذریعے اپنے چہیتوں کو کروڑوں کے ٹھیکے جاری کیے تاکہ بھاری کمیشن اور کک بیکس (Kickbacks) وصول کیے جا سکیں

اس میگا فنڈز اسکینڈل کی سب سے بھیانک اور شرمناک حقیقت یہ ہے کہ ان من پسند کمپنیوں کو قومی خزانے سے مارکیٹ ریٹ سے 200 فیصد زائد کے فلک شگاف اور بوگس بل پاس کرائے گئے

عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ مظلوم کشمیریوں یا ملکی سیاحت کی تشہیر پر خرچ کرنے کے بجائے، ایسی فرموں کو ایڈوانس ادائیگیاں کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جنہوں نے سرے سے کام ہی مکمل نہیں کیا

 آڈٹ حکام نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت اور مالی خرد برد سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا براہِ راست ٹیکا لگایا گیا، جس کا مقصد صرف اور صرف فضل الرحمٰن کے خاندانی عیاشیاں برقرار رکھنا تھا

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف زہد و تقویٰ کے جھوٹے بھاشن دینا اور دوسری طرف غریب کے بچوں کے علاج اور تعلیم کے فنڈز کو اپنے بھائیوں کے ذریعے ہڑپ کرنا فضل الرحمٰن کی مصلحت پسندانہ سیاست کا وہ بھیانک روپ ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ٹولہ دین کے نام پر ملک کو لوٹنے والا سب سے بڑا مافیا بن چکا ہے


Qaisar Mirza
editor

Related Articles