صوبائی دارالحکومت لاہور ایک بار پھر سموگ کی لپیٹ میں ہے، فضائی آلودگی کے باعث شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا پے جبکہ پنجاب کے کئی دیگر شہروں میں بھی ہوا کا معیار انتہائی خطرناک حد تک گر چکا ہے۔
عالمی درجہ بندی میں لاہور سب سے اوپر
عالمی ادارے آئی کیو ایئر (IQAir) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 509 ریکارڈ کیا گیا، جو “خطرناک” درجے سے بھی اوپر ہے، اس فہرست میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 221 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے، جبکہ مصر کا دارالحکومت قاہرہ 210 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، یوں لاہور اور اس کے بعد آنے والے شہروں کے درمیان فرق غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر کے متعدد علاقوں میں اے کیو آئی 500 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ، ان میں برکی روڈ، شاہدرہ، کاہنہ نو، ملتان روڈ، ڈی ایچ اے فیز 6، پنجاب یونیورسٹی، سفاری پارک، جی ٹی روڈ اور گلبرگ تھری شامل ہیں , یہ ریڈنگز اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آلودگی شہر کے کسی ایک حصے تک محدود نہیں بلکہ پورے لاہور میں پھیل چکی ہے۔
پنجاب کے دیگر شہر بھی شدید متاثر
پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق صوبے کے متعدد شہروں میں صورتحال تشویشناک ہے، گوجرانوالہ 500 اے کیو آئی کے ساتھ صوبے کا آلودہ ترین شہر قرار پایا، جبکہ ننکانہ صاحب بھی 500 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، اس کے بعد حافظ آباد 386 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے اور وزیرآباد 381 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔
یاد رہے کہ آئی کیو ایئر اور پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے اعداد و شمار مختلف مانیٹرنگ نظاموں پر مبنی ہیں، اس لیے لاہور کی ریڈنگ میں فرق نظر آتا ہے۔
صحت کے خدشات
ماہرین کے مطابق اے کیو آئی 300 سے اوپر جانے پر ہوا کو صحت کے لیے خطرناک تصور کیا جاتا ہے، جبکہ 500 کی سطح پر صحت مند افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور دمہ یا دیگر سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے خطرہ سب سے زیادہ ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو ماسک ضرور استعمال کریں ، گھروں اور دفاتر کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھے جائیں، جبکہ بچوں کو کھلے میدانوں میں کھیلنے سے روکا جائے، سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی یا آنکھوں میں جلن کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔
فضائی آلودگی کی اس صورتحال نے ایک بار پھر ماحولیاتی پالیسیوں اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سموگ کی بنیادی وجوہات، جن میں گاڑیوں اور صنعتوں کا دھواں اور فصلوں کی باقیات جلانا شامل ہیں، کے تدارک کے لیے ہنگامی اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔