تحریکِ انصاف کے 13 سالہ طویل دورِ حکومت میں تبدیلی کے دعوے تو بہت کیے گئے مگر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سڑکوں پر جو زمینی حقائق سامنے آ رہے ہیں وہ حکومتی کارکردگی اور اربن پلاننگ پر بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
شہر کی ایک اہم شاہراہ پر سڑک کے بالکل درمیان میں درجنوں بجلی کے کھمبوں کی تنصیب نے اس ترقیاتی ماڈل کا پول کھول کر رکھ دیا ہے جہاں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔
حادثات کی دعوتِ عام
شہر کے ایک مصروف روڈ کے بیچوں بیچ نصب یہ بجلی کے کھمبے اب کسی جنگل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ انتظامی غفلت اور متعلقہ محکموں کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ترقیاتی کاموں کے دوران سڑک تو کشادہ کر دی گئی یا نئی بنا دی گئی، لیکن بیچ میں حائل بجلی کے ان بڑے کھمبوں کو ہٹانے یا منتقل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔
نتیجہ یہ ہے کہ یہ کھمبے اب دن کی روشنی میں بھی ڈرائیوروں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں جبکہ رات کے وقت اندھیرے اور ناکافی روشنی کی وجہ سے کسی بھی بڑے جانی یا مالی حادثے کا خدشہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔
ٹریفک کی روانی شدید متاثر
پہلے ہی ٹریفک کے ہجوم اور سڑکوں کی خستہ حالی کا شکار پشاور کے باسیوں کے لیے یہ کھمبے سوہانِ روح بن گئے ہیں۔ ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں کو اچانک سڑک کے بیچوں بیچ آنے والے ان کھمبوں سے بچنے کے لیے کترات ہو کر گزرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف ٹریفک کا نظام جمود کا شکار ہوتا ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر معمولی حادثات اور تند و تلخ جملوں کا تبادلہ بھی معمول بن چکا ہے۔
شہریوں اور مسافروں کا شدید اضطراب
علاقہ مکینوں اور روزانہ اس راستے سے گزرنے والے مسافروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کے 13 سالہ دورِ اقتدار میں صوبے کو “تبدیلی” کا خواب دکھایا گیا تھا مگر عملی طور پر عوام کو مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ میونسپل کارپوریشن، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور ضلعی انتظامیہ کئی بار اس سنگین مسئلے سے آگاہ ہو چکی ہیں، مگر کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
ایک بڑا المیہ اور فوری نوٹس کا مطالبہ
پشاور کے باسیوں نے حکومت اور اعلیٰ اختیارات رکھنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ان جان لیوا بجلی کے کھمبوں کو فوری طور پر ہٹا کر سائیڈ پر منتقل کیا جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، ورنہ کسی بھی سانحے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی پر عائد ہوگی۔