ذرا تصور کریں کہ آپ کی لاکھوں ڈالر مالیت کی لگژری گاڑی چوری ہوجائے اور آپ پولیس کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی چور کا تعاقب شروع کردیں۔ ایسا ہی ایک غیر معمولی واقعہ معروف گاڑی ساز کمپنی بوگاٹی ریماک کے چیف ایگزیکٹو میٹ ریماک کے ساتھ پیش آیا۔
میٹ ریماک کی قیمتی بوگاٹی شیرون کروشیا میں کمپنی کی عمارت کے باہر سے چوری ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی گاڑی کھلی چھوڑ دیتے تھے اور اس کی چابی بھی اندر ہی رہنے دیتے تھے۔ انہیں شاید یقین تھا کہ کوئی شخص اتنی مہنگی گاڑی چرانے کی ہمت نہیں کرے گا، لیکن اس بار ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔
میٹ ریماک کے مطابق کمپنی کے ایک ملازم نے ان کی گاڑی کو تیزی سے عمارت سے نکلتے دیکھا اور فوری طور پر دیگر عملے کو اطلاع دی۔ اس کے بعد ایک گروپ چیٹ بنائی گئی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ گاڑی کوئی مجاز شخص لے کر گیا ہے یا اسے واقعی چوری کیا گیا ہے۔ جلد ہی تصدیق ہوگئی کہ گاڑی چوری ہوچکی ہے۔
میٹ ریماک نے پولیس کو اطلاع دینے کے ساتھ خود بھی گاڑی کی تلاش شروع کردی۔ خوش قسمتی سے ان کی ایک دوسری لگژری گاڑی قریب موجود تھی، جس میں کافی ایندھن بھی تھا۔ وہ فوراً اس میں سوار ہوئے اور چوری شدہ بوگاٹی کے پیچھے روانہ ہوگئے۔
چوری ہونے والی گاڑی میں لائیو ٹیلی میٹری سسٹم نصب تھا، جس کی مدد سے میٹ ریماک اس کی موجودہ لوکیشن، ایندھن کی سطح اور دیگر معلومات حقیقی وقت میں دیکھ سکتے تھے۔ تاہم وہ اس سسٹم کے ذریعے گاڑی کو دور سے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
یہ تعاقب چوری کے تقریباً ایک گھنٹے بعد شروع ہوا۔ چور گاڑی لے کر سلووینیا کی جانب بڑھ رہا تھا۔ میٹ ریماک کو امید تھی کہ پولیس سرحد عبور کرنے سے پہلے ہی اسے پکڑ لے گی، لیکن چور سلووینیا سے ہوتا ہوا آسٹریا پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
آسٹریا میں گاڑی کا ایندھن ختم ہونے کے قریب تھا اور میٹ ریماک کو توقع تھی کہ چور کسی پٹرول پمپ پر رکے گا۔ مگر چور نے ایک غیر متوقع فیصلہ کیا اور گاڑی میں پہلے سے موجود اضافی ایندھن استعمال کرنے لگا۔
بالآخر آسٹرین پولیس نے گاڑی کو روک لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس کا ایک اہلکار بھی اسی گروپ چیٹ میں شامل تھا جس کے ذریعے گاڑی کی تلاش جاری تھی۔
اس واقعے کا ایک اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ میٹ ریماک نے چور کے خلاف قانونی کارروائی آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق انہیں گاڑی چرانے والے شخص سے ہمدردی محسوس ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے اسے گھر واپس پہنچانے کے لیے لفٹ دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم پولیس نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
تاہم گاڑی کے مالک کی جانب سے نرمی دکھانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ چور قانونی کارروائی سے بچ گیا۔ بوگاٹی جیسی مہنگی گاڑی کی چوری ایک سنگین معاملہ تھا اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہونا تھی۔
اس غیر معمولی واقعے کے بعد میٹ ریماک نے بھی اپنی لاپرواہی سے سبق سیکھ لیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اب وہ اپنی گاڑی کھلی چھوڑ کر اس کی چابی اندر رکھنے کی غلطی نہیں کریں گے۔