آبنائے ہرمز میں پھر ہنگامی صورت حال،ایک اور تجارتی جہاز نشانہ بن گیا

آبنائے ہرمز میں پھر ہنگامی صورت حال،ایک اور تجارتی جہاز نشانہ بن گیا

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی سلامتی کو ایک بار پھر خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اہم عالمی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نامعلوم چیز سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق متاثرہ جہاز کے کپتان نے ہنگامی پیغام بھیج کر واقعے کی اطلاع دی۔ ابتدائی اطلاعات میں حملے کے ذمہ دار عناصر یا استعمال ہونے والے ہتھیار کی شناخت سامنے نہیں آئی۔

بحری آمدورفت پر خطرات

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہاں پیش آنے والے ایسے واقعات سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور سمندری سلامتی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا دعوی مسترد ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے ، ایران

رپورٹ کے مطابق فروری میں مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیج میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایرانی اجازت ضروری ہے۔ اس صورت حال نے پہلے سے کشیدہ خطے میں بحری نقل و حرکت کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی

خطے میں بحری سلامتی کی صورت حال اس وقت مزید پیچیدہ ہے۔ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے معاملے پر اپنا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران نے مذاکرات کے لیے خود رابطہ کیا، آبنائے ہرمز جلد کھل جائیگی ، ٹرمپ کا دعوی

ایسے حالات میں کسی تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی کے شعبے کو بھی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حملے کی تفصیلات سامنے نہ آسکیں

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی فراہم کردہ ابتدائی اطلاع میں حملے کی نوعیت اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع بھی فراہم نہیں کی گئی۔

نامعلوم چیز سے جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ اور امریکی ناکہ بندی کے باعث سمندری راستوں کی صورت حال پہلے ہی حساس ہے۔

editor

Related Articles