ڈی آئی خان سڑکوں کے منصوبے، فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کا اربوں روپے کا ایک اور کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا

ڈی آئی خان سڑکوں کے منصوبے، فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کا اربوں روپے کا ایک اور کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا

مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کے دورِ وزارتِ مواصلات میں ڈیرہ اسماعیل خان کے پانچ سڑکوں کے منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کے غیر معمولی اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ پانچوں منصوبوں کے ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں منظور شدہ کنٹریکٹس کی مجموعی مالیت میں 5 ارب 10 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا ہے۔ اصل تخمینہ ایک ارب 61 کروڑ روپے تھا، جو بڑھ کر 6 ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

اسعد محمود اپریل 2022ء سے اگست 2023ء تک وفاقی وزیرِ مواصلات رہے۔ ان کے دور میں ڈی آئی خان کے ان پانچ سڑکوں کے منصوبوں کے ٹینڈرز دوبارہ جاری کیے گئے اور نظرثانی شدہ نرخوں میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق پانچ میں سے چار منصوبوں میں لاگت 51 سے 55 فیصد تک بڑھائی گئی، جبکہ پانچویں منصوبے میں اضافے کی شرح 427.4 فیصد تک جا پہنچی۔

سب سے حیران کن معاملہ نیشنل ہائی وے این ایچ 55 پر قریشی موڑ تا موریالی روڈ کا ہے۔ اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 14 کروڑ 52 لاکھ روپے تھا، لیکن نظرثانی کے بعد کنٹریکٹ کی مالیت بڑھا کر 76 کروڑ 59 لاکھ 3 ہزار روپے کر دی گئی۔ یوں صرف ایک سڑک کے منصوبے میں 62 کروڑ 7 لاکھ 3 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔ ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں یہ غیر معمولی اضافہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر کون سی اضافی تعمیراتی ضرورت یا تکنیکی تبدیلی سامنے آئی تھی جس کے باعث منصوبے کی لاگت میں اتنا بڑا اضافہ کرنا پڑا؟

معاملے کا ایک اور اہم پہلو این ایچ اے کے سی ایس آر 2022 کے ڈیٹا کے دو مختلف ورژن سامنے آنا ہے۔ نظرثانی شدہ تخمینوں اور بولی دہندگان کی پیش کردہ قیمتوں میں مطابقت کے علاوہ سڑکوں کے مختلف حصوں سے متعلق بعض بنیادی معلومات بھی غائب پائی گئیں۔ ان امور نے ٹینڈرنگ کے طریقہ کار، تخمینوں کی تیاری اور بولیوں کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صرف تعمیراتی ٹھیکوں میں ہی نہیں فضل الرحمٰن کے بیٹے میڈیکل فنڈز میں بھی کروڑوں روپے کی لوٹ مارکی،3 ارب 26 کروڑ 16 لاکھ کی بے ضابطگیوں کا سکینڈل آ گیا

پانچوں منصوبوں کے ابتدائی تخمینوں اور حتمی کنٹریکٹس کے درمیان 5 ارب 10 کروڑ روپے کا فرق محض اعدادوشمار کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی وسائل کے استعمال سے جڑا ایک بڑا سوال ہے۔ جب منصوبوں کی لاگت میں اتنا غیر معمولی اضافہ کیا گیا تو اس کی تکنیکی بنیاد کیا تھی؟ کیا نظرثانی شدہ نرخوں کا آزادانہ جائزہ لیا گیا؟ کیا مجاز اداروں نے ان قیمتوں کی مارکیٹ ریٹس اور حقیقی تعمیراتی لاگت کے ساتھ مطابقت کی تصدیق کی؟

اسد محمود کے دورِ وزارت میں ان منصوبوں کی دوبارہ ٹینڈرنگ اور لاگت میں اضافے کے فیصلوں کی ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہے۔ بطور وفاقی وزیرِ مواصلات کیا وہ ان منصوبوں کے نظرثانی شدہ تخمینوں، ٹینڈرز اور اربوں روپے کے اضافے سے آگاہ تھے؟ ان فیصلوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی اور کیا ان کے لیے باقاعدہ تکنیکی جواز موجود تھا؟ ان سوالات کا جواب متعلقہ وزارت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو دینا ہوگا۔

ڈی آئی خان کے عوام آج بھی بنیادی شہری سہولیات کی کمی، پسماندگی اور سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کا شفاف اور مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔ پانچ سڑکوں کے منصوبوں میں ابتدائی تخمینے سے 5 ارب 10 کروڑ روپے زیادہ کے کنٹریکٹس منظور ہونے کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس رقم کے اضافے کی وجوہات اور اس سے حاصل ہونے والے اضافی تعمیراتی کام کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان، نیب اور دیگر متعلقہ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پانچوں منصوبوں کے اصل تخمینوں، نظرثانی شدہ نرخوں، ٹینڈر دستاویزات، بولیوں، کنٹریکٹس اور ادائیگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس بات کا تعین کیا جائے کہ لاگت میں اضافے کی منظوری کس نے دی، اس کے لیے کیا تکنیکی جواز پیش کیا گیا اور کہیں سرکاری خزانے کو غیر ضروری مالی بوجھ تو نہیں اٹھانا پڑا۔

بنیادی سوال یہی ہے کہ جب ڈی آئی خان کی پانچ سڑکوں کے منصوبوں کا ابتدائی تخمینہ صرف ایک ارب 61 کروڑ روپے تھا تو ان کے کنٹریکٹس 6 ارب 71 کروڑ روپے تک کیسے پہنچ گئے؟ اس 5 ارب 10 کروڑ روپے کے فرق کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور عوام کو اس کی مکمل وضاحت کب دی جائے گی؟ مذہبی شناخت، سیاسی وابستگی یا خاندانی اثرورسوخ کسی کو بھی عوامی پیسے کے احتساب سے مستثنیٰ نہیں کر سکتا۔ ڈی آئی خان کے عوام کو ان ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافے کا جواب ملنا چاہیے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles