دشمن کے ڈیجیٹل چوہوں کا ایک اور سرکس ناکام،خاران میں دہشت گردوں کا صفایا، بھارتی ٹوئٹر ہینڈل پرانی تصویریں چوری کر کے جھوٹ بیچتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

دشمن کے ڈیجیٹل چوہوں کا ایک اور سرکس ناکام،خاران میں دہشت گردوں کا صفایا، بھارتی ٹوئٹر ہینڈل پرانی تصویریں چوری کر کے جھوٹ بیچتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

بھارتی پراکسی اور ریاست مخالف پروپیگنڈا اکاؤنٹ (@B_Blch) کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ جھوٹا اور گمراہ کن دعویٰ پھیلایا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع خاران میں پاکستانی فورسز کو شدید حملوں اور آئی ای ڈی دھماکوں کے باعث پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک تصویر کو بنیاد بنا کر فورسز کی گاڑیوں کی تباہی اور بھاری جانی نقصان کا من گھڑت پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر مبنی ہےزمینی حقائق اور سیکیورٹی اداروں کے مستند ریکارڈ کے مطابق خاران میں پاکستانی فورسز کو کسی قسم کی پسپائی یا جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہند سے وابستہ تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے اور علاقے کو تخریب کاروں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے،اس بے بنیاد پوسٹ کے ساتھ منسلک تصویر کا فرانزک تجزیہ واضح کرتا ہے کہ یہ کراس بارڈر فیبریکیشن اور ڈیجیٹل جعلسازی کی ایک کلاسک مثال ہے۔

 تباہ شدہ گاڑی کو ٹریکٹر کے ذریعے نکالنے کی مبینہ تصویر کا خاران کے اس حالیہ کامیاب سیکیورٹی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ دشمن عناصر پرانی اور غیر متعلقہ تصاویر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنی عبرتناک شکست کو چھپانے کے لیے فورسز کے نقصان کا ایک مصنوعی اور جھوٹا منظر نامہ تخلیق کیا جا سکے۔

یہ منظم ڈیجیٹل جھوٹ دراصل ان بھارتی اور غیر ملکی پراکسی اکاؤنٹس کے اسی پرانے طریقہ کار کا حصہ ہے جس کے تحت وہ تسلسل کے ساتھ بلوچستان میں خیالی فوجی جھڑپوں کی داستانیں تراشتے ہیں۔


جس طرح ماضی میں نوشکی اور قلات میں جعلی ڈرون حملوں اور فرضی جھڑپوں کی خبریں پھیلائی گئیں بالکل اسی طرح اب خاران میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عسکریت پسندوں کی مصنوعی طاقت کا جھوٹا تاثر قائم کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر فورسز کی پسپائی اور تباہی کی ایسی جعلی خبریں اور تصاویر پھیلانا ایک دانستہ نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور ریاست مخالف عناصر کو طاقتور بنا کر پیش کرنا ہے۔
اس بے بنیاد پروپیگنڈے کا اصل ہدف ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنا اور بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشنز کو سبوتاژ کرنا ہے۔

editor

Related Articles