اقبال کی آڑ میں ریاستی اداروں پر وار، حامد میر کے مضمون کو فیاض الحسن چوہان نے فتنہ گری قرار دے دیا

اقبال کی آڑ میں ریاستی اداروں پر وار، حامد میر کے مضمون کو فیاض الحسن چوہان نے فتنہ گری قرار دے دیا

سینئر سیاستدان اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے سینئر صحافی حامد میر کے علامہ اقبال سے متعلق مضمون پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ علامہ اقبال کی فکر اور تحریک پاکستان میں ان کے کردار کو موضوع بنا کر ایک نیا تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے ذریعے پاکستان کی موجودہ عسکری اور ریاستی قیادت کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

آزاد ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ حامد میر نے اپنے حالیہ مضمون میں بظاہر بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب سے علامہ اقبال کی شاعری اور فکر کو تعلیمی نصاب سے نکالنے کی کوششوں کو موضوع بنایا، تاہم ان کے بقول مضمون میں علامہ اقبال کے تصور پاکستان اور دو قومی نظریے سے متعلق متنازع بحث بھی چھیڑ دی گئی۔

فیاض الحسن چوہان نے الزام لگایا کہ حامد میر نے بظاہر علامہ اقبال کی حمایت کرتے ہوئے ان کے سیاسی نظریات اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ تشخص کے تصور پر سوالات اٹھائے اور پھر اس بحث کو پاکستان کی موجودہ حکومت، فوج اور ریاستی اداروں کی کارکردگی سے جوڑ دیا۔

سابق صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال کی شاعری، فلسفہ خودی، فکر اور تحریک پاکستان میں ان کی خدمات کے حوالے سے پاکستانی قوم کے دلوں میں احترام موجود ہے۔ ان کے مطابق علامہ اقبال کی شخصیت اور مقام کو بنیاد بنا کر موجودہ ریاستی قیادت پر تنقید کرنا غیر ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سب کچھ ملنے کے بعد جواب مانگا تو بائو ں بائوں بائوں کرنا  شروع کردی ،فیاض الحسن چوہان نےفضل الرحمان  کودو ٹکے کا نکما نکٹھو قرا ر د ے دیا

انہوں نے کہا کہ حامد میر نے اپنے مضمون میں علامہ اقبال اور ایڈورڈ تھامس کے درمیان خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے علیحدہ مسلم ریاست سے متعلق اقبال کے مؤقف پر بحث کی، جبکہ جسٹس جاوید اقبال کی کتاب میں اس معاملے پر پیش کی گئی وضاحت کا تذکرہ بھی کیا۔

فیاض الحسن چوہان کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے اپنی کتاب میں ایڈورڈ تھامس کی جانب سے علامہ اقبال کے نظریات کی تشریح کو رد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی اور فکری معاملات پر علمی بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن انہیں موجودہ ریاستی اداروں پر تنقید کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔

سابق صوبائی وزیر نے تحریک پاکستان کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1940 میں قرارداد لاہور کی منظوری سے قبل مسلم قیادت مسلمانوں کے سیاسی، معاشی، مذہبی اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف آئینی اور سیاسی امکانات پر غور کرتی رہی تھی۔

انہوں نے چوہدری رحمت علی کے تصور پاکستان اور ان کے کتابچے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وقت کے ساتھ مسلم لیگ کی سیاسی سوچ میں تبدیلی آئی، جس کے نتیجے میں علیحدہ وطن کا مطالبہ تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری، دو قومی نظریے اور مسلمانوں کی علیحدہ شناخت سے متعلق فکر نے تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مولوی فضل الرحمان 73 کے آئین کے تناظر میں 74 قسم کے کرپشن کے فارمولے اب نہیں چلیں گے ، فیاض الحسن چوہان

انہوں نے حامد میر کی سابقہ تحریروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مختلف موضوعات کو پاکستان کی فوج، ریاستی اداروں اور موجودہ قیادت پر تنقید سے جوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے سیاسی معاملات سے متعلق حامد میر کی ایک سابقہ تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے بھی ان کے طرز صحافت پر اعتراض کیا۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر اہم سفارتی معاملات میں مصروف ہے اور ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان رابطوں کو فروغ ملا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایرانی شخصیت محسن رضائی سے منسوب بیانات کا بھی حوالہ دیا۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی قیادت علاقائی امن و استحکام اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، ایسے میں علامہ اقبال کے احترام کے معاملے کو ریاستی قیادت کی عالمی مصروفیات کے مقابل رکھنا ان کے نزدیک غیر مناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کا مقام اور ان کی فکری میراث کسی ایک مضمون یا بحث سے متاثر نہیں ہوسکتی۔ ان کے بقول علامہ اقبال کی فکر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے حامد میر کے مضمون کو غیر ضروری تنازع پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ سول اور عسکری قیادت کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کو تاریخ میں اہمیت حاصل ہوگی۔

Related Articles