افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا،عطا اللہ تارڑ

افغان سرزمین سے  ہونے والے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا،عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور پاکستان نے ماضی میں بھی ایسے حملوں کا بھرپور جواب دیا ہے۔

آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح اور دوٹوک رہا ہے۔ جب بھی افغان سرزمین پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہوئی، دہشت گردوں کو وہاں سے معاونت فراہم کی گئی یا انہیں پناہ دے کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کروائی گئیں، پاکستان نے ہمیشہ اس کا جواب دیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ نہ افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کو اور نہ ہی ان کی پشت پناہی حاصل کرنے والے دہشت گردوں کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کے معاملے پر حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: گلوبل کرپٹو اڈاپشن انڈیکس میں پاکستان کا تیسرا نمبر، 20 ارب ڈالر کا تخمینی حجم، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے صنعتی باڈی قائم کرنے کا فیصلہ

انہوں نے ماضی میں کوہاٹ کی جانب ڈرون آنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ان تینوں مقامات کو تباہ کیا جہاں سے ڈرون اڑائے گئے، انہیں ذخیرہ کیا گیا اور انہیں تیار کیا گیا تھا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے ان مقامات کو نشانہ بنا کر واضح کردیا تھا کہ اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور سرزمین کی سالمیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف ایسی کارروائیاں کرنے والوں کو ماضی میں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف دہشت گردوں کی کارروائیوں اور انہیں حاصل پشت پناہی کے معاملے پر ملکی مؤقف غیر متزلزل ہے اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

Related Articles