جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے امریکی مخالف بیانیے اور ماضی میں امریکی سفیر سے وزارت عظمیٰ کے حوالے سے رابطوں کا معاملہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آگیا ہے۔
اس مرتبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل گروک (Grok) سے ایک صارف کے سوال اور اس کے جواب نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے،ایکس پر ایک صارف نے گروک سے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو بعض حلقوں میں دین فروش مولوی کیوں کہا جاتا ہے اور انہوں نے امریکی سفیر کو وزیراعظم بننے کے لیے مبینہ طور پر کیا پیشکش کی تھی؟ جواب میں گروک نے وکی لیکس کی نومبر 2007 کی امریکی سفارتی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اور اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن (Anne W. Patterson) کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بیان کیں۔
تاہم اس معاملے کی اصل اہمیت گروک کے جواب سے زیادہ اس امریکی سفارتی کیبل میں موجود ان تفصیلات کی ہے، جو تقریباً دو دہائیاں قبل منظرعام پر آئی تھیں۔
وکی لیکس پر دستیاب امریکی سفارتی کیبل کے مطابق 20 نومبر 2007 کو امریکی سفیر این پیٹرسن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعظم سواتی اور ملک سکندر خان بھی موجود تھے۔
27 نومبر 2007 کو امریکی سفارت خانے اسلام آباد سے واشنگٹن بھیجی گئی اس خفیہ سفارتی رپورٹ کا عنوان تھا ’’Ambassador Discusses Elections With Fazlur Rehman‘‘۔
دستاویز کے مطابق ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے براہ راست پوچھا تھا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوجائیں تو کیا امریکی حکومت ان کے ساتھ کام کرے گی؟
اسی گفتگو میں انہوں نے امریکی سفیر کو مشورہ دیا کہ واشنگٹن اپنی تمام تر سیاسی امیدیں بے نظیر بھٹو سے وابستہ نہ کرے۔ امریکی سفیر نے جواب میں واضح کیا کہ امریکہ کی پالیسی کسی مخصوص سیاسی رہنما کو اقتدار میں لانے کی حمایت کرنا نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کرنا ہے۔
امریکی سفیر کا ووٹ فروخت ہونے سے متعلق تبصرہ
اس سفارتی کیبل کا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا حصہ امریکی سفیر این پیٹرسن کا مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق تبصرہ ہےدستاویز میں این پیٹرسن نے لکھا کہ مولانا فضل الرحمان بیک وقت پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو دونوں کی توجہ حاصل کرنے سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور خود کو ممکنہ سیاسی اتحاد کی صورت میں کنگ میکر، بلکہ وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
امریکی سفیر نے اپنے تبصرے میں لکھاHis still significant number of votes are up for sale.یعنی ان کے بقول مولانا فضل الرحمان نے واضح کردیا تھا کہ ان کی جماعت کے ووٹوں کی قابلِ ذکر تعداد فروخت کے لیے دستیاب ہے۔
یہ تبصرہ اس وقت کے سیاسی حالات میں خاص اہمیت رکھتا تھا، جب پاکستان میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کے لیے جوڑ توڑ ہورہا تھا۔
امریکہ سے سیاسی قبولیت حاصل کرنے کی کوشش
وکی لیکس کی دستاویز کے مطابق ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے امریکہ میں دورے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکی کانگریس اور تھنک ٹینکس میں لابنگ کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ مولانا کی جماعت امریکی حکومت کے ساتھ زیادہ قریبی روابط اور بین الاقوامی سطح پر اپنی سیاسی حیثیت مضبوط بنانا چاہتی تھی اس وقت مولانا فضل الرحمان خود کو آئندہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت میں اہم کردار کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے تھے۔ امریکی سفیر نے انہیں ممکنہ وزیراعظم اور کنگ میکر کے تناظر میں دیکھا تھاگروک کے جواب نے پرانی دستاویزات کو پھر موضوعِ بحث بنا دیا
ایکس پر صارف کے سوال کے جواب میں گروک نے اسی وکی لیکس دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مخالفین ان کے امریکی سفیر سے رابطے، وزارت عظمیٰ کے لیے امریکی قبولیت کی خواہش اور ووٹوں کی فروخت سے متعلق سفیر کے تبصرے کو ان کے مذہبی اور سیاسی بیانیے کے تضاد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں سوشل میڈیا صارفین انہیں دین فروش مولوی کا لقب دیتے ہیں اس کے باوجود وکی لیکس کی یہ دستاویز مولانا فضل الرحمان کی اس وقت کی سیاسی حکمت عملی، امریکی سفیر سے ان کے رابطوں اور وزارت عظمیٰ کے لیے ان کی خواہش کے حوالے سے ایک اہم تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔